وفاقی جج کا ٹرمپ انتظامیہ کو امیگریشن پروسیسنگ دوبارہ شروع کرنے کا حکم، تعمیراتی منصوبوں پر قانونی محاذ آرائی
واشنگٹن، 5 جون 2026 — ٹرمپ انتظامیہ کو جمعے کے روز اس وقت دوہرے قانونی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا جب عدلیہ نے ان کی امیگریشن پالیسیوں اور ملکی دارالحکومت کے لیے وسیع تعمیراتی منصوبوں، دونوں کی کڑی جانچ پڑتال کی۔ ایک وفاقی جج نے حکومت کو پناہ اور امیگریشن درخواستوں کی پروسیسنگ دوبارہ شروع کرنے کا حکم دیا، جبکہ ایک اپیل کورٹ نے وائٹ ہاؤس کے کچھ حصوں کو نئے بال روم کے لیے مسمار کرنے کے صدارتی اختیار پر سوال اٹھائے۔
امیگریشن پروسیسنگ کی معطلی کالعدم قرار
انتظامیہ کے امیگریشن ایجنڈے کے لیے ایک بڑی شکست کے طور پر، ایک وفاقی جج نے ان پالیسیوں کو کالعدم قرار دے دیا جنہوں نے ملک کے امیگریشن نظام کو مؤثر طریقے سے منجمد کر دیا تھا۔
اس عدالتی فیصلے نے خاص طور پر حکومت کی جانب سے درج ذیل پر عائد غیر معینہ مدت کی پابندیوں کو مسترد کر دیا:
- عالمی پناہ کی درخواستیں: دنیا بھر میں پناہ کے متلاشی افراد کی درخواستوں کی پروسیسنگ کو روکنے کے فیصلے کو منسوخ کر دیا۔
- 39 ممالک سے درخواستیں: ان 39 مخصوص ممالک کے افراد کے لیے امیگریشن پروسیسنگ پر عائد پابندی ختم کر دی جو قانونی کشمکش کا شکار تھے اور اپنا گرین کارڈ یا شہریت کا درجہ حاصل کرنے سے قاصر تھے۔
ان درخواستوں کی معطلی نے امیگریشن عدالتوں کو تعطل کا شکار کر دیا تھا اور ہزاروں تارکین وطن کو امریکہ میں اپنے قانونی مستقبل کے حوالے سے شدید غیر یقینی صورتحال میں چھوڑ دیا تھا۔
اپیل کورٹ کی وائٹ ہاؤس بال روم پراجیکٹ پر کڑی نظر
اس کے ساتھ ہی، انتظامیہ کو واشنگٹن ڈی سی میں بڑے تعمیراتی منصوبوں پر صدر کے ایگزیکٹو اختیار کے حوالے سے اپیل کورٹ کے پینل کی جانب سے سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔
جمعے کے روز ہونے والے دلائل کے دوران، ججوں نے محکمہ انصاف کے ایک وکیل سے صدر ٹرمپ کے اس فیصلے پر کڑی پوچھ گچھ کی جس میں انہوں نے کانگریس سے پیشگی مشاورت کے بغیر نئے بال روم کی تعمیر کے لیے وائٹ ہاؤس کے ایک حصے کو مسمار کرنے کا آغاز کیا تھا۔
یہ متنازعہ بال روم اس وسیع اور پرعزم تعمیراتی پورٹ فولیو کا محض ایک حصہ ہے جسے مسٹر ٹرمپ تیزی سے آگے بڑھا رہے ہیں۔ دارالحکومت کے لیے زیر غور دیگر بڑے منصوبوں میں شامل ہیں:
- ایک 259 فٹ طویل ٹرائمفل آرچ
- لنکن میموریل ریفلیکٹنگ پول کی جامع تزئین و آرائش
اپیل کورٹ کی اس سماعت کا نتیجہ تاریخی یادگاروں اور وفاقی تعمیراتی منصوبوں کے حوالے سے صدارتی ایگزیکٹو پاور کی حدود پر ایک بڑی قانونی نظیر قائم کر سکتا ہے۔