کشمیر کا گاؤں 'ون دجی': جہاں 5 نسلوں نے آج تک بجلی کی روشنی نہیں دیکھی
- لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے قریب کپواڑہ کا گاؤں ون دجی سطح سمندر سے 12 ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔
- گاؤں میں بجلی نہ ہونے کے باعث لوگ رات کو مشعلیں جلاتے ہیں، جس کے دھوئیں سے سانس اور دل کی بیماریاں پھیل رہی ہیں۔
- فون اور پاور بینک چارج کرنے کے لیے مکینوں کو کئی کلومیٹر پیدل پہاڑ سے نیچے اتر کر شہر جانا پڑتا ہے۔
- حکام کے مطابق دشوار گزار راستوں کے باعث تاخیر ہوئی، تاہم رواں سال کے آخر تک گاؤں کو بجلی فراہم کر دی جائے گی۔
لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے نہایت قریب، انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں خوبصورت ہمالیائی پہاڑی سلسلے کے درمیان واقع 'ون دجی' گاؤں کے مکینوں کے لیے جدید زمانہ آج بھی محض ایک محاورہ ہے۔ اس گاؤں کی پانچ نسلوں نے آج تک بجلی کی روشنی نہیں دیکھی، اور آج کی نئی نسل بھی رات کے وقت لکڑی کی مشعل اور باورچی خانے کے چولہے کے دھوئیں میں پروان چڑھ رہی ہے۔
جدید دنیا سے کٹا ہوا ایک گاؤں
برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کی رپورٹ کے مطابق، ون دجی گاؤں کو صدیوں سے بجلی کا انتظار ہے کیونکہ اسے تاحال بجلی کے گرڈ کے ساتھ نہیں جوڑا گیا ہے۔ گاؤں کی 19 سالہ کلثومہ بتاتی ہیں کہ خواتین سب سے زیادہ متاثر ہیں کیونکہ دن بھر چولہے کا دھواں اور رات کو پڑھائی کے دوران مشعل کا دھواں انہیں بیمار کر دیتا ہے۔
ان کا کہنا تھا، ”جب ہم کپواڑہ مارکیٹ جاتے ہیں اور لوگوں کو سمارٹ فون پر مصروف دیکھتے ہیں تو ہمیں کمتری کا احساس ہوتا ہے۔ کسی رشتہ دار کے گھر ہیٹر، بوائلر اور گیزر دیکھ کر لگتا ہے کہ ہمارے لیے وقت وہیں رُک گیا ہے جب انسان آگ سے کھانا پکاتا اور روشنی کرتا تھا۔“
روزمرہ کی مشقت اور صحت کے سنگین مسائل
کپواڑہ، سرینگر سے شمال کی جانب 75 کلومیٹر دور ہے۔ کپواڑہ قصبے سے ون دجی کا فاصلہ 45 کلومیٹر ہے، لیکن گاڑیاں صرف 40 کلومیٹر تک جا سکتی ہیں، جس کے بعد لوگوں کو دشوار گزار پہاڑی راستہ پیدل طے کرنا پڑتا ہے۔
گاؤں کے رہائشی بشیر احمد میر، جو شہر سے سامان کندھوں پر اٹھا کر لاتے ہیں، بتاتے ہیں: ”نہ سڑک ہے، نہ بجلی۔ لگتا ہے حکومت کو معلوم بھی نہیں کہ ون دجی کہاں ہے۔“
بجلی نہ ہونے کی وجہ سے 500 سے کم آبادی والے اس گاؤں میں صحت کے سنگین مسائل جنم لے رہے ہیں۔ مشعلوں کے دھوئیں سے سینے، گلے اور آنکھوں کی بیماریاں عام ہیں۔ مقامی شہری عبدالرشید ملک، جو دھوئیں کے باعث سینے کے انفیکشن اور پھر دل کے عارضے میں مبتلا ہو گئے ہیں، کہتے ہیں:
”ہم ایک ہفتے میں کئی ٹن لکڑی جلاتے ہیں۔ میرے پردادا، دادا اور والد نے بجلی نہیں دیکھی، میری عمر بھی اندھیرے میں گزر گئی۔ بجلی ہوتی تو میں دل کا مریض نہ بنتا۔“
جدید دور میں فون چارج کرنے کی جدوجہد
مواصلاتی رابطے کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ریاض احمد لون، جو اپنی 11 سالہ بیٹی آصفہ جان کو لکڑی کی مشعل کی روشنی میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی کتاب پڑھاتے ہیں، بتاتے ہیں کہ بچوں کا مستقبل خطرے میں ہے۔
”لوگ سمارٹ فونز سے دنیا سے جڑے ہیں، جبکہ ہم ایمرجنسی کے لیے فون اور پاور بینک چارج کرنے کے لیے پہاڑ اتر کر کپواڑہ جاتے ہیں۔“
بجلی کی فراہمی میں تاخیر اور حکام کا مؤقف
گاؤں کے محلہ صدر، محمد سلطان، برسوں سے دفاتر کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ گاؤں میں کچھ کھمبے لگائے گئے ہیں لیکن تاروں اور بجلی کا کوئی نام و نشان نہیں۔
محکمہ بجلی کے ایگزیکٹیو انجینئر محمد شفیع وانی نے تاخیر کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا:
”ون دجی سطح سمندر سے 12 ہزار فٹ کی بلندی پر واقع ہے اور راستے انتہائی خطرناک ہیں۔ وہاں انفراسٹرکچر بنانے کے لیے سامان پہنچانا بہت مشکل کام ہے۔ تاہم، ہم نے کچھ سامان پہنچا دیا ہے اور رواں سال کے آخر تک ہم ون دجی کو گرڈ کے ساتھ جوڑ دیں گے۔“
ون دجی کی موجودہ نسل اب اس امید پر زندہ ہے کہ برسوں کا یہ اندھیرا جلد ختم ہوگا اور ان کے بچے بھی زندگی میں پہلی بار بجلی کے بلب کی روشنی دیکھ سکیں گے۔