لبنان کے صدر کی اسرائیل کو مذاکرات کی پیشکش، جنگ کے خاتمے کے لیے بات چیت پر زور
لبنان کے صدر جوزف عون نے اسرائیلی حکومت اور عوام سے براہِ راست مذاکرات کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ جاری جنگ کا خاتمہ صرف اور صرف بات چیت کے ذریعے ممکن ہے، کیونکہ فوجی کارروائیاں کبھی بھی مستقل امن اور سلامتی کی ضمانت فراہم نہیں کر سکتیں۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں صدر جوزف عون نے کہا کہ لبنان جنگ کے خاتمے کے لیے سنجیدہ ہے اور مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنا چاہتا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’ہم تیار ہیں، ہم آمادہ ہیں اور ہم پُرعزم ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اسرائیل بھی امن کے لیے اتنا ہی سنجیدہ ہے؟ اگر آپ تیار ہیں تو آئیں اور مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر مسائل کا حل تلاش کریں۔‘‘
امریکا کی ثالثی میں رابطے جاری
لبنانی صدر نے انکشاف کیا کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان امریکا کی ثالثی میں جنگ بندی اور دشمنی کے مکمل خاتمے کے لیے براہِ راست رابطے جاری ہیں۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ کسی حتمی معاہدے سے پہلے وہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو سے ملاقات نہیں کریں گے۔ ان کے مطابق زیر غور معاہدہ مکمل امن معاہدہ نہیں بلکہ ’’عدم جارحیت‘‘ یا ’’غیر حملہ معاہدہ‘‘ ہو سکتا ہے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان مسلسل کشیدگی اور تصادم کا خاتمہ ہوگا۔
صدر عون کا کہنا تھا کہ ’’ہمیں لبنان اور اسرائیل کے درمیان دشمنی کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہوگا۔ اگر فریقین سنجیدگی کا مظاہرہ کریں تو یہ معاہدہ خطے میں دیرپا استحکام کی بنیاد بن سکتا ہے۔‘‘
عرب امن منصوبے کی حمایت
صدر جوزف عون نے کہا کہ لبنان اب بھی 2002 کے عرب امن منصوبے کی حمایت کرتا ہے، جس کے تحت فلسطینی ریاست کے قیام اور مقبوضہ عرب علاقوں سے اسرائیلی انخلا کے بدلے عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کی تجویز دی گئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں پائیدار امن کا راستہ فلسطینی مسئلے کے منصفانہ حل سے ہو کر گزرتا ہے، تاہم اس مقصد تک پہنچنے کے لیے مرحلہ وار پیش رفت ضروری ہوگی۔
ان کے بقول، ’’ہم ایک ہی قدم میں مکمل امن تک نہیں پہنچ سکتے، بلکہ مختلف مراحل سے گزر کر اعتماد سازی اور استحکام کی طرف بڑھنا ہوگا۔‘‘
ایران پر سخت مؤقف
لبنانی صدر نے اپنے انٹرویو میں ایران کے حوالے سے بھی غیر معمولی طور پر سخت مؤقف اختیار کیا۔
انہوں نے کہا کہ لبنان ایران کے ساتھ اچھے اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات کا خواہاں ہے، لیکن کسی بھی ملک کو لبنان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔
صدر عون نے کہا، ’’لبنانی عوام کسی دوسرے ملک کے مفادات کی خاطر اپنی جانوں کی قربانی نہیں دے سکتے۔ ہمارا ملک اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کے مطابق فیصلے کرنے کا حق رکھتا ہے۔‘‘
انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ ایران بعض اوقات امریکا کے ساتھ اپنے مذاکرات میں لبنان کو دباؤ کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کرتا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ ایران کے بارے میں صدر عون کے اب تک کے سخت ترین بیانات میں شمار کیے جا رہے ہیں۔
جنگ نے لبنان کو شدید نقصان پہنچایا
واضح رہے کہ موجودہ جنگ کا آغاز 2 مارچ کو اس وقت ہوا تھا جب حزب اللہ نے اسرائیل پر حملے کیے، جس کے بعد اسرائیل نے لبنان میں وسیع فضائی اور زمینی کارروائیاں شروع کر دیں۔
اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں جنوبی لبنان کے بڑے علاقے شدید تباہی کا شکار ہوئے جبکہ ہزاروں خاندان بے گھر ہو گئے۔
رپورٹس کے مطابق اب تک لبنان میں 3 ہزار 600 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 10 لاکھ سے زیادہ شہری اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔
جنگ بندی کے باوجود حملے جاری
اگرچہ امریکا نے 16 اپریل کو جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، لیکن اس کے باوجود جھڑپوں اور حملوں کا سلسلہ مکمل طور پر بند نہیں ہو سکا۔
لبنانی حکام کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے اعلان کے بعد بھی اسرائیل کی جانب سے ہزاروں حملے کیے گئے، جس سے کشیدگی برقرار رہی۔
حال ہی میں اسرائیل نے شمالی اسرائیل پر ہونے والی فائرنگ کے جواب میں بیروت کے جنوبی مضافات کو نشانہ بنایا، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی اور ایران و اسرائیل کے درمیان بھی براہِ راست حملوں کا تبادلہ دیکھنے میں آیا۔
خطے کے لیے اہم پیش رفت
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر جوزف عون کی جانب سے اسرائیل کو مذاکرات کی پیشکش ایک اہم سفارتی پیش رفت ہے۔ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو نہ صرف لبنان اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں کمی آ سکتی ہے بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں استحکام کی نئی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔
تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ مستقل امن کے لیے صرف جنگ بندی کافی نہیں، بلکہ بنیادی سیاسی تنازعات کا حل اور تمام فریقوں کی سنجیدہ کوششیں بھی ضروری ہوں گی۔