ماؤنٹ ایورسٹ پر معجزہ: 6 دن قبل لاپتہ ہونے والا نیپالی گائیڈ مردہ سمجھے جانے کے بعد زندہ مل گیا
کھٹمنڈو (اردو پيور عالمی ڈیسک): دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ پر ناممکن ممکن ہو گیا۔ چھ روز قبل لاپتہ ہونے والے ایک 52 سالہ نیپالی کوہ پیما گائیڈ دوا شیرپا، جنہیں مردہ تصور کر کے ان کی آخری رسومات کے لیے دعائیں تک کر دی گئی تھیں، انتہائی معجزانہ طور پر زندہ بچ گئے ہیں۔
لاپتہ ہونے کے چھ روز بعد انہیں جمعرات کے روز ماؤنٹ ایورسٹ کے بیس کیمپ کی جانب سرکتے اور رینگتے ہوئے آتا دیکھا گیا، جس کے بعد ریسکیو ٹیموں نے انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا۔
موت کے منہ سے واپسی: 'ایک حقیقی سیلف ریسکیو'
دوا شیرپا (جو معروف کوہ پیما ایڈمنڈ ہلیری کی مناسبت سے 'ہلیری دوا شیرپا' کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں) کو آخری بار کیمپ تھری سے اوپر، تقریباً 7,500 میٹر کی بلندی پر اس وقت دیکھا گیا تھا جب وہ چوٹی سر کرنے کے بعد واپس اتر رہے تھے۔
اتنی بلندی پر آکسیجن کی شدید کمی کے باعث اتنے دن تک زندہ رہنا سائنسی طور پر ناممکن سمجھا جاتا ہے۔ تلاش اور امدادی کارروائیوں کی نگرانی کرنے والی کمپنی ’8K ایکسپیڈیشنز‘ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر پیمبا شیرپا نے اسے ایک معجزہ قرار دیتے ہوئے کہا:
"دوا شیرپا نے تمام تر مشکلات کے باوجود کئی روز تک زندہ رہ کر دکھایا ہے۔ یہ کسی معجزے سے کم نہیں۔ اکیلے لاپتہ ہونے کے بعد اب تک کوئی بھی شخص اتنی بلندی پر زندہ نہیں بچ سکا۔ یہ ایک حقیقی سیلف ریسکیو ہے۔"
دوا شیرپا جمعرات کو صفائی کے عملے کو اس وقت نظر آئے جب وہ اپنے ہاتھوں پر فراسٹ بائٹ (Frostbite) کے باوجود برفیلے راستے (کھمبو آئس فال) سے آہستہ آہستہ بیس کیمپ کی جانب سرک رہے تھے۔ کمپنی نے فوری کارروائی کرتے ہوئے انہیں فضائی راستے سے بحفاظت کھٹمنڈو منتقل کیا۔
ساتھی کوہ پیماؤں کا گمان اور آخری الوداع
ان کے زندہ ملنے کی خبر دنیا بھر کے کوہ پیماؤں کے لیے ایک جھٹکا تھی، کیونکہ انہیں یقین تھا کہ وہ جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
- اہلیہ کی دعائیں: دوا شیرپا کی اہلیہ نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ موت کا یقین ہونے پر انہوں نے اپنے شوہر کی روح کے سکون کے لیے آخری رسومات اور دعائیں تک ادا کر دی تھیں۔
- کرس تھرال کی ویڈیو: برطانوی رائل میرین کے سابق اہلکار اور ساتھی کوہ پیما کرس تھرال نے بدھ کو انہیں خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے انسٹاگرام پر ایک الوداعی ویڈیو بھی پوسٹ کر دی تھی۔ کرس نے بتایا کہ کیمپ فور سے واپسی پر دوا شیرپا تھک کر بیٹھ گئے تھے اور انہوں نے کرس سے کہا تھا، "میں ٹھیک ہوں، تم آگے بڑھو۔"
ہسپتال میں علاج اور بیٹی کی خوشی
اس وقت دوا شیرپا کھٹمنڈو کے ہیمز ہسپتال کے انتہائی نگہداشت یونٹ (ICU) میں زیرِ علاج ہیں۔ ڈاکٹر نِشانت دھاکل کے مطابق وہ ہوش میں ہیں اور تیزی سے صحتیاب ہو رہے ہیں۔ اپنے والد سے ملاقات کے بعد ان کی بیٹی مہینڈو لہامو شیرپا نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا: "انہوں نے مجھے دیکھ کر فوراً پہچان لیا۔ وہ ٹھیک ہیں اور بات بھی کر رہے ہیں۔ ہم سب بے حد خوش ہیں۔"
ایورسٹ کا مصروف ترین اور خطرناک سیزن
رواں سال ماؤنٹ ایورسٹ پر کوہ پیمائی کا سیزن تاریخ کا سب سے مصروف ترین سیزن بن گیا ہے، جس میں ایک ہزار سے زائد افراد نے چوٹی سر کی ہے۔ تاہم، یہ سیزن جان لیوا بھی ثابت ہوا ہے، جس میں اب تک 5 کوہ پیما (جن میں تین نیپالی شامل ہیں) جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ دوا شیرپا کی اس معجزانہ واپسی نے پوری دنیا میں امید اور انسانی ہمت کی ایک نئی داستان رقم کر دی ہے۔