ایران۔امریکا معاہدے کی امید پر عالمی منڈی میں تیل سستا، پاکستان میں بھی قیمتوں میں کمی کا امکان
ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ سفارتی پیش رفت اور کشیدگی میں کمی کی توقعات کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔
بین الاقوامی تجارتی اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) کی قیمت میں تین فیصد سے زائد کمی کے بعد یہ تقریباً 87 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آ گیا، جبکہ امریکی خام تیل (ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ) بھی گراوٹ کے بعد 84 ڈالر فی بیرل کے قریب ٹریڈ ہوتا رہا۔
اسی طرح متحدہ عرب امارات کے مربن خام تیل کی قیمت میں بھی چار فیصد سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد اس کی قیمت تقریباً 83 ڈالر فی بیرل تک آ گئی۔
توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں اور خطے میں کشیدگی کم ہوتی ہے تو عالمی تیل کی فراہمی میں بہتری آ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں پر مزید دباؤ پڑنے کا امکان ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی تیل تجارت کا ایک اہم بحری راستہ ہے اور اس سے متعلق خدشات میں کمی آنے کی صورت میں عالمی منڈیوں کا اعتماد مزید بحال ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب پاکستان میں بھی عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے اثرات مرتب ہونے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔ توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سطح پر گراوٹ کا رجحان برقرار رہتا ہے تو آئندہ جائزوں میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے۔
تاہم ماہرین نے واضح کیا ہے کہ پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین صرف عالمی خام تیل کی قیمتوں کی بنیاد پر نہیں ہوتا بلکہ ایکسچینج ریٹ، ٹیکسز، لیوی اور درآمدی اخراجات بھی حتمی قیمتوں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔
حکومتی ذرائع کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق حتمی فیصلہ آئندہ قیمتوں کے جائزے کے دوران کیا جائے گا۔