آپریشن ایپک فیوری سے جنگ بندی تک — امریکہ ایران جنگ کا مکمل پس منظر
خصوصی رپورٹ
امریکہ — ایران جنگ ۲۰۲۶
آپریشن ایپک فیوری
6 جون 2026
۲۸ فروری کو شروع ہونے والی جنگ کس طرح ۸ اپریل کو جنگ بندی تک پہنچی؟ پاکستان کی وساطت، آبنائے ہرمز کا بحران، اور مذاکرات کی ناکامی — ایک جامع جائزہ
⬤ پس منظر — جنگ کیوں شروع ہوئی؟
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کوئی اچانک واقعہ نہیں تھی۔ برسوں سے ایران کے جوہری پروگرام، خطے میں حزب اللہ اور حماس جیسے گروہوں کی مدد، اور امریکی فوجی اڈوں پر حملوں نے دونوں ملکوں کو ٹکراؤ کی راہ پر ڈال دیا تھا۔ سال ۲۰۲۶ کے آغاز میں ایران کے اندر بھی بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے جنہیں حکومت نے طاقت سے کچلا، اور امریکہ نے جنوری میں ایران کے تیل کی ترسیل سے منسلک درجنوں افراد اور اداروں پر نئی پابندیاں عائد کیں۔
⬤ آپریشن ایپک فیوری — جنگ کا آغاز
۲۸ فروری ۲۰۲۶ کو امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ فضائی حملوں کا آغاز کیا جسے امریکہ نے ''آپریشن ایپک فیوری'' اور اسرائیل نے ''آپریشن روارنگ لائن'' کا نام دیا۔ حملوں کے ابتدائی چند گھنٹوں میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای سمیت اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنایا گیا۔ حملوں کا اعلانیہ مقصد ایران کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام کو تباہ کرنا اور حکومت کا تختہ الٹنا تھا۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے دعوے کے مطابق آپریشن کے اختتام تک ایران کی بحریہ اور فضائیہ تباہ کر دی گئی، ۸۵ فیصد سے زائد دفاعی صنعتی بنیاد ختم کی گئی، اور میزائل لانچر گاڑیاں و ڈرون تباہ کیے گئے — تاہم آزاد تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کا زیرزمین میزائل نیٹ ورک بڑی حد تک محفوظ رہا۔
⬤ ایران کا جوابی حملہ — آپریشن ٹرو پرامس IV
امریکی حملوں کے فوری بعد ایران نے ''آپریشن ٹرو پرامس IV'' کے تحت جوابی کارروائی شروع کی۔ ۴۸ گھنٹوں کے اندر یہ تنازع سات ممالک تک پھیل گیا — بحرین، اردن، کویت، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور عراق میں میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے۔ قطر میں موجود امریکی اڈے العدید پر بھی حملہ ہوا۔ ۴ مارچ ۲۰۲۶ کو ایران نے آبنائے ہرمز بند کر دی — بارودی سرنگیں بچھا کر، جہاز ضبط کر کے، اور بحری جنگی دستوں کی گشت کے ذریعے۔ ۱۰ مارچ تک عالمی منڈی سے روزانہ ۶۷ لاکھ بیرل تیل کم ہو گیا، جس سے عالمی تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں۔
⬤ مذاکرات کی کوششیں اور پاکستان کی وساطت
مارچ کے اواخر میں پاکستان نے باضابطہ طور پر مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکی اور ایرانی قیادت سے شٹل ڈپلومیسی کے ذریعے رابطے کیے۔
7 اپریل 2026
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا: ''آج رات ایک پوری تہذیب مٹ جائے گی'' — حملے کی آخری ڈیڈ لائن مقرر کی
7 اپریل 2026 — رات
پاکستانی قیادت کی درخواست پر ٹرمپ نے دو ہفتے کی جنگ بندی کا اعلان کیا، ایران نے مشروط منظوری دی
8 اپریل 2026
اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ پر بھاری بمباری کی — ایران نے احتجاج کرتے ہوئے آبنائے ہرمز دوبارہ بند کر دی
11–12 اپریل 2026
اسلام آباد مذاکرات — امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ اسپیکر گالیباف کے درمیان براہ راست ملاقات، ۱۹۷۹ کے بعد پہلی بار — لیکن کوئی معاہدہ نہ ہو سکا
13 اپریل 2026
ٹرمپ نے ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا
21 اپریل 2026
ٹرمپ نے جنگ بندی کو غیر معینہ مدت تک بڑھانے کا اعلان کیا — مذاکرات جاری
5 مئی 2026
آپریشن ایپک فیوری باضابطہ طور پر ختم قرار دیا گیا
10–11 مئی 2026
ٹرمپ نے ایران کی تازہ تجویز مسترد کی، جنگ بندی کو ''لائف سپورٹ پر'' قرار دیا
جون 2026
آبنائے ہرمز کے قریب دونوں فریقین کے درمیان محدود جھڑپیں — مذاکرات اب بھی جاری، نتیجہ نامعلوم
⬤ ابھی صورتحال کیا ہے؟
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اس ہفتے تصدیق کی کہ آپریشن ایپک فیوری کا مرکزی عسکری مرحلہ مکمل ہو چکا ہے۔ تاہم جنگ ختم نہیں ہوئی — آبنائے ہرمز پر جھڑپیں جاری ہیں، جوہری معاملہ حل طلب ہے، اور لبنان میں اسرائیل حزب اللہ تنازع بھی الجھا ہوا ہے۔ ٹرمپ نے جمعہ کو کہا کہ ایران نے کوئی معاہدہ نہیں کیا کیونکہ وہ طاقتور اور خوددار ہے — لیکن انہیں بالآخر میز پر آنا ہی ہوگا۔
آزاد تجزیاتی اداروں — CSIS، CFR اور ساؤفان سینٹر — کا نتیجہ یہ ہے کہ امریکہ نے فوجی لحاظ سے نقصان تو پہنچایا لیکن ایران کے زیرزمین میزائل نیٹ ورک کو تباہ نہ کر سکا، اور سیاسی مقاصد ابھی تک حاصل نہیں ہوئے۔