Ad Blocker Detected

We rely on ads to keep our content free. Please whitelist this site in your ad blocker, then refresh to continue reading.

How to whitelist this site

  1. Click your ad blocker icon in the browser toolbar.
  2. Find "Whitelist this site" or "Disable on this page".
  3. Click the button below and we'll verify automatically.
⏳ Verifying, please wait…
❌ Ad blocker still active. Please whitelist this site and try again.
✅ All good! Reloading…
|
اردوپیور NEWS
لائیو
تازہ ترین
انگریزی بولنے کی پریکٹس کیسے کریں؟ | مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ، ڈیپ لرننگ، جنریٹو اے آئی، بڑے لسانی ماڈلز، معلوماتی معاون نظام اور خودکار عملی اے آئی میں فرق | روس میں ہٹلر کے نام سے پیزا آرڈر کرنے والے طالب علم کو 5 روز قید کی سزا | ہفتے میں دو دن اسمارٹ فون بند رکھنے کا حیران کن تجربہ، فوائد بھی سامنے آئے اور مشکلات بھی | چین میں انسان نما روبوٹس سڑکوں پر ’بھیک مانگتے‘ نظر آئے، ویڈیوز وائرل | فیفا ورلڈ کپ بخار: بنگلادیش میں ارجنٹائن کے رنگوں میں رنگی بھیڑ کی ویڈیو وائرل | جنوبی کوریا: مصنوعی ذہانت سے چلنے والی گڑیا بزرگ خاتون کی بہترین ساتھی بن گئی | نوجوان ڈیٹا ویژولائزیشن سیکھ کر پیسے کیسے کما سکتے ہیں؟ 6 ماہ کا عملی روڈ میپ | انگریزی بولنے کی پریکٹس کیسے کریں؟ | مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ، ڈیپ لرننگ، جنریٹو اے آئی، بڑے لسانی ماڈلز، معلوماتی معاون نظام اور خودکار عملی اے آئی میں فرق | روس میں ہٹلر کے نام سے پیزا آرڈر کرنے والے طالب علم کو 5 روز قید کی سزا | ہفتے میں دو دن اسمارٹ فون بند رکھنے کا حیران کن تجربہ، فوائد بھی سامنے آئے اور مشکلات بھی | چین میں انسان نما روبوٹس سڑکوں پر ’بھیک مانگتے‘ نظر آئے، ویڈیوز وائرل | فیفا ورلڈ کپ بخار: بنگلادیش میں ارجنٹائن کے رنگوں میں رنگی بھیڑ کی ویڈیو وائرل | جنوبی کوریا: مصنوعی ذہانت سے چلنے والی گڑیا بزرگ خاتون کی بہترین ساتھی بن گئی | نوجوان ڈیٹا ویژولائزیشن سیکھ کر پیسے کیسے کما سکتے ہیں؟ 6 ماہ کا عملی روڈ میپ |

آپریشن ایپک فیوری سے جنگ بندی تک — امریکہ ایران جنگ کا مکمل پس منظر

آپریشن ایپک فیوری کیا تھا؟ ۲۸ فروری ۲۰۲۶ کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا، آبنائے ہرمز بند ہوئی، پاکستان نے جنگ بندی کرائی — مکمل پس منظر اور تازہ صورتحال پڑھیں۔

Admin 06 Jun 2026 1 منٹ پڑھیں 226

آپریشن ایپک فیوری سے جنگ بندی تک — امریکہ ایران جنگ کا مکمل پس منظر

خصوصی رپورٹ

امریکہ — ایران جنگ ۲۰۲۶

آپریشن ایپک فیوری

6 جون 2026

۲۸ فروری کو شروع ہونے والی جنگ کس طرح ۸ اپریل کو جنگ بندی تک پہنچی؟ پاکستان کی وساطت، آبنائے ہرمز کا بحران، اور مذاکرات کی ناکامی — ایک جامع جائزہ

⬤ پس منظر — جنگ کیوں شروع ہوئی؟

امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کوئی اچانک واقعہ نہیں تھی۔ برسوں سے ایران کے جوہری پروگرام، خطے میں حزب اللہ اور حماس جیسے گروہوں کی مدد، اور امریکی فوجی اڈوں پر حملوں نے دونوں ملکوں کو ٹکراؤ کی راہ پر ڈال دیا تھا۔ سال ۲۰۲۶ کے آغاز میں ایران کے اندر بھی بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے جنہیں حکومت نے طاقت سے کچلا، اور امریکہ نے جنوری میں ایران کے تیل کی ترسیل سے منسلک درجنوں افراد اور اداروں پر نئی پابندیاں عائد کیں۔

⬤ آپریشن ایپک فیوری — جنگ کا آغاز

۲۸ فروری ۲۰۲۶ کو امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ فضائی حملوں کا آغاز کیا جسے امریکہ نے ''آپریشن ایپک فیوری'' اور اسرائیل نے ''آپریشن روارنگ لائن'' کا نام دیا۔ حملوں کے ابتدائی چند گھنٹوں میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای سمیت اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنایا گیا۔ حملوں کا اعلانیہ مقصد ایران کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام کو تباہ کرنا اور حکومت کا تختہ الٹنا تھا۔

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے دعوے کے مطابق آپریشن کے اختتام تک ایران کی بحریہ اور فضائیہ تباہ کر دی گئی، ۸۵ فیصد سے زائد دفاعی صنعتی بنیاد ختم کی گئی، اور میزائل لانچر گاڑیاں و ڈرون تباہ کیے گئے — تاہم آزاد تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کا زیرزمین میزائل نیٹ ورک بڑی حد تک محفوظ رہا۔

⬤ ایران کا جوابی حملہ — آپریشن ٹرو پرامس IV

امریکی حملوں کے فوری بعد ایران نے ''آپریشن ٹرو پرامس IV'' کے تحت جوابی کارروائی شروع کی۔ ۴۸ گھنٹوں کے اندر یہ تنازع سات ممالک تک پھیل گیا — بحرین، اردن، کویت، قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور عراق میں میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے۔ قطر میں موجود امریکی اڈے العدید پر بھی حملہ ہوا۔ ۴ مارچ ۲۰۲۶ کو ایران نے آبنائے ہرمز بند کر دی — بارودی سرنگیں بچھا کر، جہاز ضبط کر کے، اور بحری جنگی دستوں کی گشت کے ذریعے۔ ۱۰ مارچ تک عالمی منڈی سے روزانہ ۶۷ لاکھ بیرل تیل کم ہو گیا، جس سے عالمی تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں۔

⬤ مذاکرات کی کوششیں اور پاکستان کی وساطت

مارچ کے اواخر میں پاکستان نے باضابطہ طور پر مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکی اور ایرانی قیادت سے شٹل ڈپلومیسی کے ذریعے رابطے کیے۔

7 اپریل 2026

ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا: ''آج رات ایک پوری تہذیب مٹ جائے گی'' — حملے کی آخری ڈیڈ لائن مقرر کی

7 اپریل 2026 — رات

پاکستانی قیادت کی درخواست پر ٹرمپ نے دو ہفتے کی جنگ بندی کا اعلان کیا، ایران نے مشروط منظوری دی

8 اپریل 2026

اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ پر بھاری بمباری کی — ایران نے احتجاج کرتے ہوئے آبنائے ہرمز دوبارہ بند کر دی

11–12 اپریل 2026

اسلام آباد مذاکرات — امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ اسپیکر گالیباف کے درمیان براہ راست ملاقات، ۱۹۷۹ کے بعد پہلی بار — لیکن کوئی معاہدہ نہ ہو سکا

13 اپریل 2026

ٹرمپ نے ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا

21 اپریل 2026

ٹرمپ نے جنگ بندی کو غیر معینہ مدت تک بڑھانے کا اعلان کیا — مذاکرات جاری

5 مئی 2026

آپریشن ایپک فیوری باضابطہ طور پر ختم قرار دیا گیا

10–11 مئی 2026

ٹرمپ نے ایران کی تازہ تجویز مسترد کی، جنگ بندی کو ''لائف سپورٹ پر'' قرار دیا

جون 2026

آبنائے ہرمز کے قریب دونوں فریقین کے درمیان محدود جھڑپیں — مذاکرات اب بھی جاری، نتیجہ نامعلوم

⬤ ابھی صورتحال کیا ہے؟

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اس ہفتے تصدیق کی کہ آپریشن ایپک فیوری کا مرکزی عسکری مرحلہ مکمل ہو چکا ہے۔ تاہم جنگ ختم نہیں ہوئی — آبنائے ہرمز پر جھڑپیں جاری ہیں، جوہری معاملہ حل طلب ہے، اور لبنان میں اسرائیل حزب اللہ تنازع بھی الجھا ہوا ہے۔ ٹرمپ نے جمعہ کو کہا کہ ایران نے کوئی معاہدہ نہیں کیا کیونکہ وہ طاقتور اور خوددار ہے — لیکن انہیں بالآخر میز پر آنا ہی ہوگا۔

آزاد تجزیاتی اداروں — CSIS، CFR اور ساؤفان سینٹر — کا نتیجہ یہ ہے کہ امریکہ نے فوجی لحاظ سے نقصان تو پہنچایا لیکن ایران کے زیرزمین میزائل نیٹ ورک کو تباہ نہ کر سکا، اور سیاسی مقاصد ابھی تک حاصل نہیں ہوئے۔

شیئر کریں:

مزید پڑھیں

App

Learn English in Urdu

★★★★☆ (1M+ Downloads)

OPEN APP