ملک بھر کی اہم خبریں: سیاسی، سیکیورٹی اور موسمی صورتحال
جے یو آئی (ف) کا گلگت بلتستان الیکشن پر مؤقف
جمعیت علمائے اسلام (ف) نے مطالبہ کیا ہے کہ گلگت بلتستان کے حلقہ نمبر 15 دیامر-1 میں جے یو آئی کے امیدوار مفتی ولی الرحمان کی کامیابی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔
پارٹی ترجمان کے مطابق حلقہ 15 دیامر-1 اور حلقہ 17 دیامر-3 میں عوام نے جے یو آئی کے امیدواروں کو منتخب کیا ہے۔ ترجمان نے یہ بھی کہا کہ بلاول بھٹو کی ان کے مؤقف کی تائید پر وہ ان کے شکر گزار ہیں۔
سیاسی رہنماؤں کے بیانات
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کے کچھ عناصر کسی مخصوص ایجنڈے پر چل رہے ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ نے کہا کہ اپوزیشن میں بھی اور حکومت میں بھی میثاق جمہوریت پر بات کی گئی ہے۔
وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا نام لیے بغیر ان پر سخت تنقید کی۔
سربراہ عوام پاکستان پارٹی اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ 18ویں ترمیم کے بعد بھی وفاقی حکومت کا حجم مسلسل بڑھ رہا ہے۔
حکومتی معاشی پالیسی اور بجٹ
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ بجٹ تقریر میں کوئی ایسا وعدہ شامل نہیں جو پورا نہ کیا جا سکے۔
جمال خان کاکڑ کے مطابق موجودہ حالات کے مطابق یہ ایک بہترین بجٹ ہے۔
معاشی ماہر عارف حبیب نے کہا ہے کہ توانائی کی بلند قیمتیں سرمایہ کاری میں رکاوٹ بن رہی ہیں جبکہ ٹیکس کی شرح بھی زیادہ ہے۔
سیکیورٹی صورتحال اور جرائم
پنجاب پولیس نے محرم الحرام کے لیے صوبے بھر میں سیکیورٹی پلان مکمل کر لیا ہے۔
کراچی میں آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران موسم گرم اور مرطوب رہنے اور مطلع جزوی ابرآلود رہنے کا امکان ہے۔
کراچی کے مختلف علاقوں—اورنگی ٹاؤن، شاہ لطیف ٹاؤن اور نارتھ کراچی—میں فائرنگ کے واقعات پیش آئے جن میں باپ اور تین بیٹے جاں بحق ہو گئے۔ پولیس کے مطابق واقعہ ٹارگٹ کلنگ لگتا ہے جبکہ چچا زاد ملزمان فرار ہو گئے ہیں۔ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرکے فرانزک جانچ کے لیے بھیج دیے گئے ہیں۔
خارجہ امور
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دو اہم رہنماؤں نے امریکا ایران مفاہمت کو خطے کے امن کے لیے اہم قرار دیا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق ایران نے اپنی افزودہ یورینیم کو محفوظ بنانے کے لیے زیرِ زمین تنصیبات کو سیل کر کے ان تک رسائی کے راستوں پر بارودی سرنگیں نصب کر دی ہیں۔
دیگر اہم خبریں
وزیراعظم کے معاون خصوصی رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ کسی بھی قسم کی مسلح کارروائی کے ذریعے مظفرآباد پر قبضہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
سیاسی رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ تمام اختلافات کا حل جمہوری، آئینی اور پرامن طریقے سے نکالا جانا چاہیے۔