امریکہ میں اسرائیلی جاسوسی کا الرٹ: پینٹاگون نے خطرے کی سطح 'کریٹیکل' کر دی
واشنگٹن (اردو پيور انویسٹی گیشن ڈیسک): امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بظاہر قریبی عسکری اور سفارتی تعلقات کے باوجود، اندرونی سطح پر شدید عدم اعتماد اور انٹیلی جنس کشیدگی کا انکشاف ہوا ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، پینٹاگون (امریکی محکمہ دفاع) نے حالیہ ہفتوں میں اسرائیلی جاسوسی کے خطرے کی سطح کو "ہائی"سے بڑھا کر "کریٹیکل" یعنی انتہائی تشویشناک درجے پر کر دیا ہے۔
یہ غیر معمولی الرٹ دونوں ممالک کے درمیان ایران کے معاملے پر جاری پیچیدہ حکمتِ عملی اور وائٹ ہاؤس کے اندرونی فیصلوں کو لے کر سامنے آیا ہے۔
الرٹ لیول میں اضافے کی اصل وجہ
امریکی میڈیا نے نامعلوم انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے اس اہم پیشرفت کی وجوہات بیان کی ہیں:
- ایران کے خلاف جارحانہ حکمتِ عملی: اس تبدیلی کی بنیادی وجہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ اور خطے میں بڑھتی ہوئی جارحانہ حکمتِ عملی ہے۔ حالات کی کشیدگی کے باعث دونوں ممالک ایک دوسرے کے اگلے اقدامات کے حوالے سے شدید شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔
- ڈی آئی اےکا انتباہ: پینٹاگون کے ماتحت کام کرنے والی اہم خفیہ ایجنسی 'ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی' نے الرٹ لیول میں یہ اضافہ اس سنگین خدشے کے پیشِ نظر کیا ہے کہ اسرائیل اپنے مقاصد کے لیے امریکی سیکیورٹی کو بائی پاس کر سکتا ہے۔
وائٹ ہاؤس اور اعلیٰ حکام کی جاسوسی کا خدشہ
رپورٹس کے مطابق، پینٹاگون کو یہ شواہد یا خدشات ملے ہیں کہ اسرائیل اب امریکی اعلیٰ حکام کی نگرانی اور جاسوسی کی کوششیں تیز کر رہا ہے۔
اسرائیلی جاسوسی کا مبینہ ہدف وائٹ ہاؤس کی وہ اندرونی اور انتہائی خفیہ مشاورت ہے جو جنگ کے ممکنہ خاتمے، جنگ بندی کی شرائط اور خطے میں آئندہ کی امریکی پالیسی سے متعلق ہو رہی ہے۔ اسرائیل بظاہر قبل از وقت یہ جاننا چاہتا ہے کہ امریکی انتظامیہ پسِ پردہ جنگ ختم کرنے کے حوالے سے کیا فیصلے کر رہی ہے، تاکہ وہ اس کے مطابق اپنی جنگی حکمتِ عملی کو ترتیب دے سکے۔
یہ انکشاف ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جنگی مقاصد اور سفارتی ترجیحات میں خلیج بڑھتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔