بھارت میں بڑا آئی ٹی فراڈ: پونے میں ٹیکنالوجی کمپنی راتوں رات بند، 700 ملازمین بے روزگار
بھارت کے مشہور آئی ٹی ہب سمجھے جانے والے شہر 'پونے' میں ایک انتہائی سنگین مالیاتی فراڈ سامنے آیا ہے۔ ایک مقامی ٹیکنالوجی کمپنی کی جانب سے راتوں رات اپنے دفاتر بند کرنے کے نتیجے میں 700 سے زائد ملازمین، جن میں زیادہ تر نئے بھرتی ہونے والے نوجوان اور انٹرنز شامل تھے، اچانک بے روزگار ہو گئے ہیں۔
اس ہوشربا واقعے نے بھارتی آئی ٹی سیکٹر میں جاب سیکیورٹی اور پرائیویٹ کمپنیوں کی شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
واقعہ کیسے پیش آیا؟
موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق، پونے میں قائم اس آئی ٹی کمپنی کے ملازمین جب معمول کے مطابق اپنے دفتر پہنچے تو انہیں عمارت کے دروازوں پر تالے پڑے ملے۔ کمپنی کی انتظامیہ نے بغیر کسی پیشگی نوٹس، ای میل یا وارننگ کے اپنا تمام آپریشن بند کر دیا تھا۔
متاثرہ ملازمین کے مطابق:
- تنخواہوں کی عدم ادائیگی: ملازمین کو پچھلے کئی ماہ سے تنخواہیں ادا نہیں کی جا رہی تھیں اور انتظامیہ کی جانب سے فنڈز کی کمی یا کلائنٹس کی طرف سے تاخیر کے بہانے بنائے جا رہے تھے۔
- نئی بھرتیاں: حیران کن طور پر، کمپنی بند ہونے سے چند دن قبل تک نئے گریجویٹس اور انٹرنز کو نوکریاں دی جا رہی تھیں اور بعض اطلاعات کے مطابق ان سے سیکیورٹی ڈیپازٹ یا ٹریننگ کی مد میں رقم بھی وصول کی گئی تھی۔
- رابطہ منقطع: دفتر بند ہونے کے بعد کمپنی کی ویب سائٹ آف لائن کر دی گئی اور تمام ایچ آر اور مینجمنٹ افسران کے فون نمبرز بند ملے۔
کمپنی کے سربراہ کی گرفتاری
اس اچانک دھوکے کے بعد سینکڑوں متاثرہ ملازمین نے مقامی پولیس اسٹیشن کے باہر جمع ہو کر شدید احتجاج کیا اور کمپنی انتظامیہ کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی۔
پولیس نے فوری اور سخت کارروائی کرتے ہوئے تفتیش کا آغاز کیا اور چھاپہ مار کر کمپنی کے سربراہ (سی ای او) کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ:
- گرفتار ملزم پر دھوکہ دہی، فراڈ اور امانت میں خیانت کی سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
- ملزم سے تفتیش کی جا رہی ہے کہ آیا کمپنی نے دانستہ طور پر سرمایہ کاروں اور ملازمین کا پیسہ ہڑپ کرنے کے لیے یہ منصوبہ بنایا تھا یا واقعی کمپنی کسی شدید مالی بحران شکار تھی۔
- پولیس نے کمپنی کے بینک اکاؤنٹس اور دیگر اثاثے منجمد کرنے کے لیے بھی کارروائی شروع کر دی ہے تاکہ متاثرہ ملازمین کی رقوم کی واپسی کو ممکن بنایا جا سکے۔
آئی ٹی سیکٹر کے لیے ایک سوالیہ نشان
بھارت کا شہر پونے بین الاقوامی اور مقامی آئی ٹی کمپنیوں کا ایک بہت بڑا مرکز ہے۔ اس واقعے نے اس شہر میں کام کرنے والے ہزاروں نوجوانوں میں خوف اور بے چینی پیدا کر دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بغیر کسی ٹھوس بیک گراؤنڈ چیک اور ریگولیٹری مانیٹرنگ کے بننے والے نئے آئی ٹی اسٹارٹ اپس اکثر نوجوانوں کے مستقبل سے کھیلتے ہیں۔
حکومت اور متعلقہ لیبر ڈیپارٹمنٹس پر اب شدید دباؤ ہے کہ وہ پرائیویٹ آئی ٹی کمپنیوں میں ملازمین کے حقوق کے تحفظ کے لیے سخت قوانین وضع کریں تاکہ مستقبل میں کوئی اور کمپنی اس طرح راتوں رات 700 خاندانوں کا معاشی قتل نہ کر سکے۔