روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کا اہم بیان: ایران کا داخلی استحکام اور مشرق وسطیٰ کا عالمی بحران
سینٹ پیٹرزبرگ — روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایران کی داخلی صورتحال، مشرق وسطیٰ کے بڑھتے ہوئے تنازعات اور عالمی سیاست پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا ہے۔ عالمی خبر رساں اداروں کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے ایران کے داخلی استحکام کو سراہا اور اسے عالمی سطح پر ایک بڑی پیش رفت قرار دیا۔
ایرانی معاشرے کا اتحاد اور قربانی کا جذبہ
صدر پیوٹن نے ایران کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس بات کا کریڈٹ ایرانی قیادت اور عوام کو دیا جانا چاہیے کہ ملک اندرونی طور پر تقسیم کا شکار نہیں ہوا، بلکہ مسلسل مضبوطی کی جانب گامزن ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران میں قومی یکجہتی اور ریاستی اداروں کے ساتھ عوامی وابستگی نمایاں ہے۔
- عوامی ردعمل: ایرانی قیادت کی جانب سے جب ملک کے لیے قربانی دینے کی اپیل کی گئی تو لاکھوں افراد نے اس پر مثبت ردعمل دیا۔
- رضاکارانہ پیشکش: صدر پیوٹن کے مطابق، قیادت کی کال پر تقریباً 50 لاکھ افراد نے خود کو رضاکارانہ طور پر پیش کیا، جو معاشرے کے منظم اور مضبوط ہونے کی واضح علامت ہے۔
روس اور ایران کے درمیان عسکری تعاون کی تردید
ولادیمیر پیوٹن نے روس اور ایران کے مابین ہتھیاروں کی فراہمی کے حوالے سے پائے جانے والے مغربی تاثرات کی سختی سے تردید کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ:
"یہ حقیقت ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ نہ تو ایران نے کبھی روس سے اسلحہ مانگا اور نہ ہی روس نے کبھی ایران کو اسلحہ فراہم کیا۔"
انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان قریبی اور بااعتماد دوستانہ تعلقات ضرور موجود ہیں، لیکن عسکری تعاون اس نوعیت کا نہیں رہا جیسا پیش کیا جاتا ہے۔ صدر نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ ماسکو اس تنازع کے نتیجے میں توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے کوئی فائدہ اٹھا رہا ہے۔
یوکرین بمقابلہ مشرق وسطیٰ: ایک مقامی اور عالمی بحران کا تقابل
موجودہ عالمی سیاست پر بات کرتے ہوئے روسی صدر نے کہا کہ ایران کے گرد جاری تنازع اب ایک عالمی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
- یوکرین تنازع کی نوعیت: انہوں نے یوکرین کے تنازع کو ایک "مقامی نوعیت کا مسئلہ" قرار دیا۔
- مشرق وسطیٰ کی صورتحال: اس کے برعکس، ایران کے گرد پیدا ہونے والی صورتحال عالمی نوعیت اختیار کر چکی ہے، جس کے باعث امریکا کی توجہ یوکرین جنگ سے ہٹ کر بنیادی طور پر مشرق وسطیٰ سے نمٹنے پر مرکوز ہو گئی ہے۔
جوہری پروگرام کا پرامن حل اور سفارتی امیدیں
صدر پیوٹن نے خطے میں قیام امن کے لیے سفارتی راستے کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کوششیں اور ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی پالیسیاں کسی مفاہمتی حل تک پہنچنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔
ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے صدر پیوٹن نے ایک اہم تجویز پیش کی:
- ایران کے افزودہ یورینیم کو بین الاقوامی برادری اور عالمی ایٹمی انرجی ایجنسی کی نگرانی میں کم افزودہ کر کے مستقبل میں پرامن جوہری مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
- انہوں نے پیشکش کی کہ اگر تنازع کے خاتمے اور حل کے لیے روس کسی بھی طرح مدد کر سکتا ہے تو ماسکو ہمیشہ تعاون کے لیے تیار ہے۔
فلسطین کا مسئلہ اور عالمی توجہ
اپنی گفتگو کے اختتام پر روسی صدر نے تشویش کا اظہار کیا کہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ کشیدگی کی وجہ سے فلسطین کا بنیادی مسئلہ پس منظر میں چلا گیا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری کو یاد دلایا کہ ایران اور آبنائے ہرمز کے گرد پیش آنے والے واقعات کے باعث فلسطین کا المیہ گو کہ نظروں سے اوجھل ہو گیا ہے، لیکن یہ مسئلہ ختم نہیں ہوا اور بدستور اپنی پوری شدت کے ساتھ موجود ہے۔