تہران / کویت سٹی / منامہ: خلیجی خطے میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔ ایرانی خبر ایجنسیوں کے مطابق ایران کے جزیرے قشم کے قریب دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں، جس کے بعد خطے کی سکیورٹی صورتحال پر تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے۔
کویتی فوج نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس کا فضائی دفاعی نظام ممکنہ میزائل اور ڈرون خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے متحرک رہا۔ حکام کے مطابق سنی جانے والی بعض دھماکوں کی آوازیں فضاء میں اہداف کو تباہ کرنے کے نتیجے میں پیدا ہوئیں۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ کویت میں نصب امریکی فضائی دفاعی نظام تمام میزائلوں کو روکنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ بعض ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک میزائل مبینہ طور پر کویت کے ایک غیر فوجی علاقے میں گرا، تاہم اس دعوے کی کویتی حکام نے تاحال تصدیق نہیں کی۔
ادھر روسی میڈیا رپورٹس کے مطابق خلیجی ریاست بحرین میں بھی فضائی دفاعی نظام کو ہائی الرٹ کر دیا گیا جبکہ ممکنہ خطرات کے پیش نظر مختلف علاقوں میں سائرن بجائے گئے۔
اسی دوران ایرانی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے جوابی کارروائی کے دوران ایک امریکی۔اسرائیلی کارگو جہاز کو نشانہ بنایا ہے۔ تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع یا بین الاقوامی حکام کی جانب سے ابھی تک تصدیق نہیں ہو سکی۔
ماہرین کے مطابق اگر ان دعوؤں کی تصدیق ہوتی ہے تو یہ صورتحال خلیج فارس، آبنائے ہرمز اور بحیرہ عرب میں جاری کشیدگی کو مزید سنگین بنا سکتی ہے، جس کے اثرات عالمی تجارت، تیل کی ترسیل اور علاقائی سلامتی پر مرتب ہو سکتے ہیں۔
اہم نوٹ: اس خبر میں شامل بعض دعوے مختلف ممالک کے سرکاری اور نیم سرکاری ذرائع سے سامنے آئے ہیں، جن کی آزاد اور غیر جانبدار ذرائع سے مکمل تصدیق تاحال نہیں ہو سکی۔ اس لیے صورتحال تیزی سے تبدیل ہو سکتی ہے۔