ریاض (اردو پيور عالمی ڈیسک): سعودی عرب نے ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم تارکینِ وطن اور قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف اپنے کریک ڈاؤن میں مزید تیزی لا دی ہے۔ حکام کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، محض ایک ہفتے کے دوران اقامہ، لیبر اور سرحدی قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر 7 ہزار 760 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، جبکہ ہزاروں کو ان کے آبائی ممالک واپس بھیج دیا گیا ہے۔
گرفتاریوں اور کارروائیوں کی تفصیلی رپورٹ
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق، یہ کارروائیاں 28 مئی سے 3 جون 2026 کے درمیان مملکت کے مختلف حصوں میں انجام دی گئیں۔ گرفتار ہونے والے 7,760 افراد کا بریک ڈاؤن درج ذیل ہے:
- اقامہ قوانین کی خلاف ورزی: 4,060 افراد
- سرحدی قوانین کی خلاف ورزی (غیر قانونی داخلہ): 2,574 افراد
- لیبر قوانین کی خلاف ورزی: 1,126 افراد
ڈی پورٹیشن اور سرحدی دراندازی کے اعداد و شمار
سعودی سیکیورٹی فورسز نے اپنی کارروائیوں کو منطقی انجام تک پہنچاتے ہوئے 4 ہزار 690 غیر قانونی تارکین کو باقاعدہ طور پر ان کے ممالک ڈی پورٹ (واپس روانہ) کر دیا ہے۔
سرحد پار کرنے کی کوششیں:
- مملکت میں داخلہ: غیر قانونی طور پر سعودی عرب کی سرحد عبور کر کے اندر داخل ہونے کی کوشش پر 1,184 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ ان دراندازوں میں سب سے بڑی تعداد ایتھوپین شہریوں کی تھی (70 فیصد)، جبکہ 28 فیصد یمنی اور 2 فیصد دیگر ممالک کے شہری شامل تھے۔
- مملکت سے فرار: اس کے علاوہ، 25 ایسے افراد کو بھی حراست میں لیا گیا جو غیر قانونی طریقے سے سرحد پار کر کے سعودی عرب سے ہمسایہ ممالک میں فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔
سہولت کاروں کی گرفتاری اور سخت سزاؤں کا انتباہ
غیر قانونی تارکینِ وطن کی مدد کرنے والے مقامی اور غیر ملکی سہولت کاروں کے خلاف بھی گھیرا تنگ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، غیر قانونی افراد کو سفر، رہائش، روزگار اور پناہ فراہم کرنے کے الزام میں 16 سہولت کاروں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
سعودی وزارتِ داخلہ کا سخت انتباہ: سعودی حکام نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ مملکت میں غیر قانونی تارکینِ وطن کو کسی بھی قسم کی سفری، رہائشی یا ملازمت کی سہولت فراہم کرنا ایک سنگین جرم ہے۔ اس جرم میں ملوث پائے جانے والے افراد کے لیے سخت سزائیں مقرر ہیں، جن میں بھاری جرمانے، جائیداد و گاڑی کی ضبطگی اور طویل قید شامل ہے۔