سعودی عرب نے امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان اور قطر کی ثالثی کوششوں کو سراہا ہے۔
ریاض سے جاری سعودی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک کی سفارتی کوششیں قابلِ تعریف ہیں اور ان کا مثبت کردار خطے میں کشیدگی کم کرنے میں اہم ثابت ہوا ہے۔
بیان کے مطابق امریکا اور ایران کی جانب سے ان ثالثی کوششوں پر مثبت ردعمل بھی حوصلہ افزا ہے، جو خطے میں سفارتی حل کی طرف ایک اہم پیش رفت ہے۔
سعودی وزارت خارجہ نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو 28 فروری سے پہلے کی معمول کی صورتحال کے مطابق بحال کیا جانا ضروری ہے تاکہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل متاثر نہ ہو۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے ایک جامع اور مستقل معاہدہ ناگزیر ہے، جو تمام ممالک کے سیکیورٹی مفادات کو مدنظر رکھے اور ریاستوں کی خودمختاری کا مکمل احترام کرے۔
ریاض نے زور دیا کہ خطے میں دیرپا امن صرف باہمی احترام اور مشترکہ مفاہمت پر مبنی سفارتی عمل کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
اہم نکات
- سعودی عرب کا امریکا ایران معاہدے کا خیرمقدم
- پاکستان اور قطر کی ثالثی کی کوششوں کو سراہا گیا
- آبنائے ہرمز کی معمول کی بحالی پر زور
- خطے میں کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششیں اہم قرار
- مستقل اور جامع معاہدے کی ضرورت پر زور