آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے باوجود تیل اور گیس کی ترسیل میں جزوی بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ ایران کی پاسدارانِ انقلاب اسلامی (آئی آر جی سی) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 24 تجارتی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی گئی۔
شپنگ ڈیٹا کے مطابق گزشتہ ہفتے دو تیل بردار جہاز کامیابی سے آبنائے ہرمز عبور کر کے خلیج فارس سے باہر نکلے، جبکہ متحدہ عرب امارات میں ایک ایل این جی ٹینکر نے گیس کا کارگو لوڈ کیا۔
قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق حالیہ دنوں میں کئی ٹینکرز نے محدود مگر مسلسل نقل و حرکت جاری رکھی ہے، تاہم ایران اور امریکا۔اسرائیل کشیدگی کے باعث خطے میں تیل اور گیس کی ترسیل اب بھی شدید دباؤ کا شکار ہے۔
شپنگ ڈیٹا کے مطابق ’’سی وکٹریئس‘‘ نامی افرا میکس ٹینکر تقریباً 80 ہزار ٹن ہائی سلفر فیول آئل لے کر آبنائے ہرمز سے گزرا۔ اسی طرح ’’ایس ٹی آئی ایلیسیز‘‘ نامی ایک اور ٹینکر بھی کویت سے صاف شدہ تیل مصنوعات لے کر گزر گیا۔
دوسری جانب ابوظبی نیشنل آئل کمپنی کے زیر انتظام ’’میری گولڈ‘‘ ایل این جی ٹینکر نے داس آئی لینڈ ٹرمینل سے کارگو لوڈ کیا، تاہم اس کی نقل و حرکت جزوی طور پر خفیہ رکھی گئی۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق خطے میں کشیدگی کے باعث بعض جہاز اپنی شناختی نشریات عارضی طور پر بند کر دیتے ہیں تاکہ ان کی نقل و حرکت چھپائی جا سکے۔
پاسدارانِ انقلاب اسلامی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ’’ذہانت پر مبنی کنٹرول‘‘ جاری ہے اور تمام تجارتی سرگرمیاں پیشگی اجازت اور نگرانی کے تحت انجام دی جا رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ کچھ جہاز کامیابی سے گزر رہے ہیں، لیکن خطے کی صورتحال عالمی توانائی منڈیوں کے لیے اب بھی تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔