کراچی سے راولپنڈی جانے والی تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں خانیوال کے قریب اچانک آگ بھڑک اٹھی، تاہم بروقت کارروائی کے باعث بڑا حادثہ ٹل گیا۔
پاکستان ریلوے کے ترجمان کے مطابق آگ لگنے کے فوراً بعد پاور وین کو ٹرین سے الگ کر دیا گیا تاکہ آگ دیگر بوگیوں تک نہ پھیل سکے۔ دیکھتے ہی دیکھتے آگ نے پوری پاور وین کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور ایک فائر ٹینڈر کی مدد سے آگ پر قابو پالیا گیا۔ ریلوے حکام کے مطابق حادثے میں کسی قسم کے جانی نقصان یا مسافروں کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
آگ بجھائے جانے کے بعد تیزگام ایکسپریس کو اپنی منزل راولپنڈی کی جانب روانہ کر دیا گیا، جبکہ متاثرہ پاور وین کو مزید جانچ کے لیے علیحدہ کر لیا گیا۔
چیئرمین پاکستان ریلویز نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ کمیٹی کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سات روز کے اندر حادثے کی وجوہات اور ذمہ دار عوامل پر مشتمل رپورٹ پیش کرے۔
ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر آگ لگنے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی، تاہم تکنیکی خرابی سمیت مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ مسافروں کی حفاظت اور ریلوے آپریشنز کے معیار کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔