امریکی عدالت کا فیصلہ: ٹرمپ کا 100,000 ڈالر ایچ-1 بی ویزا فیس غیر قانونی قرار
امریکی شہر بوسٹن میں ایک وفاقی جج نے فیصلہ سناتے ہوئے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کی گئی 100,000 ڈالر ایچ-1 بی ویزا فیس کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔
عدالت نے کہا کہ یہ فیس دراصل ایک “ٹیکس” کے مترادف ہے جس کی اجازت امریکی کانگریس نے نہیں دی، اس لیے اسے نافذ نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت کا مؤقف
جج کے مطابق حکومت نے اس فیس کو جرمانہ قرار دینے کی کوشش کی، لیکن اس کی نوعیت دراصل ٹیکس کی ہے۔ امریکی قانون کے تحت صدر کو ایسا ٹیکس عائد کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔
فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ امیگریشن قوانین صدر کو کچھ غیر ملکی شہریوں کے داخلے پر پابندی کی اجازت دیتے ہیں، مگر اس بنیاد پر بھاری مالی فیس عائد نہیں کی جا سکتی۔
ایچ-1 بی ویزا کیا ہے؟
ایچ-1 بی ویزا پروگرام کے تحت:
- ہر سال ہزاروں غیر ملکی ہنرمند افراد کو امریکہ میں کام کی اجازت ملتی ہے
- ٹیکنالوجی کمپنیوں سمیت مختلف ادارے اس پروگرام پر انحصار کرتے ہیں
- پہلے اس ویزا کی فیس چند ہزار ڈالر تک ہوتی تھی
ٹرمپ انتظامیہ نے اس میں اضافہ کرتے ہوئے اسے 100,000 ڈالر تک بڑھا دیا تھا۔
تنازع کیوں پیدا ہوا؟
ناقدین کے مطابق یہ فیس:
- غیر ملکی ہنرمند افراد کے لیے رکاوٹ بن سکتی تھی
- امریکی کمپنیوں کی ٹیکنالوجی اور افرادی قوت پر اثر ڈال سکتی تھی
- عالمی سطح پر امریکہ کی مسابقت کو کمزور کر سکتی تھی
حکومت کا ردعمل
وائٹ ہاؤس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کرے گا۔ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ صدر کو قومی مفاد کے تحت امیگریشن پر پابندیاں لگانے کا اختیار حاصل ہے۔