واشنگٹن سے موصول ہونے والی رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی میں ممکنہ توسیع کے مجوزہ فریم ورک کی تاحال منظوری نہیں دی، جس کے باعث خطے میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
اطلاعات کے مطابق صدر ٹرمپ نے جمعہ کے روز وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں اپنے قومی سلامتی اور دفاعی مشیروں کے ساتھ ایک اہم اجلاس کیا۔ سچویشن روم کو امریکی حکومت کا وہ مرکز سمجھا جاتا ہے جہاں جنگ، قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی سے متعلق حساس فیصلے کیے جاتے ہیں۔ تاہم اجلاس کے بعد جنگ بندی میں توسیع سے متعلق کوئی حتمی اعلان سامنے نہیں آیا۔
گزشتہ روز یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ امریکا اور ایران ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے قریب پہنچ چکے ہیں اور معاہدے کی راہ میں صرف صدر ٹرمپ کی حتمی منظوری باقی ہے۔ مجوزہ فریم ورک کے تحت جنگ بندی میں توسیع، آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی اور بعد ازاں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات شروع کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا تھا۔
تاہم اب تک اس سلسلے میں کوئی باضابطہ پیش رفت سامنے نہیں آئی، جس سے سفارتی کوششوں کے مستقبل پر سوالات پیدا ہو گئے ہیں۔
دوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے سنگاپور میں ایک تقریب کے دوران اظہارِ خیال کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ فریقین کے درمیان کسی نہ کسی شکل میں معاہدہ طے پا سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے امریکی بحری ناکہ بندی بدستور برقرار ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے، لیکن اگر مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں تو واشنگٹن کے پاس دیگر تمام آپشنز بھی موجود ہیں۔ ان کے بقول خطے میں امریکی فوجی موجودگی اور دفاعی تیاری پہلے سے زیادہ مضبوط ہے اور ضرورت پڑنے پر دوبارہ عسکری کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔
جنگ بندی میں تاخیر اور آبنائے ہرمز کے حوالے سے جاری کشیدگی نے عالمی منڈیوں اور توانائی کے شعبے میں بھی تشویش پیدا کر دی ہے، کیونکہ یہ آبی گزرگاہ دنیا کی تیل سپلائی کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔