ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کا عندیہ دے دیا، تہران نے فوری معاہدے کی خبروں کو مسترد کر دیا
امریکی صدر نے ایران کے ساتھ ممکنہ سفارتی پیش رفت کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں، تاہم ایران نے فوری معاہدے اور دستخطوں سے متعلق خبروں کو مسترد کر دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں کہا کہ انہیں امید ہے کہ ایران کے ساتھ ایک ایسا معاہدہ طے پا سکتا ہے جو خطے میں استحکام اور امن کے فروغ میں مددگار ثابت ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو خطے میں کشیدگی کم کرنے اور اہم بحری راستوں پر معمول کی سرگرمیوں کی بحالی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ مجوزہ معاہدہ ماضی کے معاہدوں سے مختلف ہوگا اور اس کا مقصد جوہری سرگرمیوں سے متعلق خدشات کا مؤثر حل تلاش کرنا ہے۔
دوسری جانب ایران نے فوری معاہدے اور دستخطوں سے متعلق خبروں کو قبل از وقت قرار دیا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ مذاکرات جاری ہیں تاہم ابھی کسی حتمی معاہدے کا اعلان نہیں کیا گیا۔
ایرانی حکام کے مطابق مختلف امور پر پیش رفت ضرور ہوئی ہے، لیکن کئی اہم نکات پر ابھی مزید بات چیت درکار ہے۔ تہران نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ کسی مخصوص تاریخ پر معاہدے پر دستخط طے پا چکے ہیں۔
ادھر ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے بھی بعض امریکی بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکراتی عمل کو سیاسی بیانات سے متاثر نہیں ہونا چاہیے اور کسی بھی پیش رفت کا انحصار مذاکراتی نتائج پر ہوگا۔
سفارتی ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان بالواسطہ رابطے جاری ہیں اور متعدد علاقائی ممالک بھی کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں کردار ادا کر رہے ہیں۔ تاہم تاحال کسی حتمی معاہدے یا دستخطی تقریب کا باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو یہ نہ صرف ایران اور امریکا کے تعلقات میں اہم پیش رفت ہوگی بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں سلامتی، توانائی کی منڈیوں اور علاقائی استحکام پر بھی مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔