ٹرمپ کا اعتراف: ایران نے ابھی تک کوئی معاہدہ نہیں کیا — ''وہ طاقتور اور خوددار ہیں، مگر بالآخر مجبور ہوں گے''
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ ایران نے ابھی تک امریکہ کے ساتھ کوئی باقاعدہ معاہدہ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ''ایران نے اس لیے معاہدہ نہیں کیا کیونکہ وہ طاقتور ہے اور اسے اپنی خودداری پر ناز ہے'' — تاہم ان کا موقف تھا کہ تہران کے پاس بالآخر کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوگا اور اسے معاہدے کی طرف آنا ہی پڑے گا۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ان کی انتظامیہ ایران کے معاملے پر ''نمایاں کامیابیاں'' حاصل کر رہی ہے۔ انہوں نے دہرایا کہ ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی۔
ٹرمپ نے بتایا کہ آبنائے ہرمز سے بڑی تعداد میں آئل ٹینکرز گزر رہے ہیں، البتہ انہوں نے درست تعداد ظاہر کرنے سے گریز کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال جلد معمول پر آنے کی توقع ہے، جس کے بعد تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آ سکتی ہے — حتیٰ کہ یہ قیمتیں جنگ سے پہلے کی سطح سے بھی نیچے جا سکتی ہیں۔
واضح رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ابتدائی دو ہفتے کی جنگ بندی اپریل ۲۰۲۶ میں پاکستانی وساطت سے طے پائی تھی، جسے کئی بار بڑھایا جا چکا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اس ہفتے تصدیق کی کہ امریکہ کی بنیادی فوجی کارروائی ''آپریشن ایپک فیوری'' اختتام کو پہنچ چکی ہے، تاہم اس ہفتے بھی آبنائے ہرمز کے قریب دونوں فریقین کے درمیان محدود جھڑپیں ہوئیں۔
ایران کی وزارت خارجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے متعلق کوئی بھی انتظام صرف ایران اور ساحلی ممالک کے درمیان طے ہونا چاہیے — امریکہ کا اس میں کوئی کردار نہیں۔ ٹرمپ نے اس سلسلے میں یہ بھی کہا کہ اگر وہ ڈیموکریٹ ہوتے تو کوئی یہ سوال نہ اٹھاتا کہ جنگ کب ختم ہوگی۔