ترکیہ نے واضح کیا ہے کہ وہ ابراہیمی معاہدے میں شمولیت صرف اس صورت میں قبول کرے گا جب فلسطین کو 1967 کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کیا جائے۔
ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن کے لیے مسئلہ فلسطین کا منصفانہ حل بنیادی شرط ہے۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال میں خطے میں کسی بھی بڑے سفارتی معاہدے کی کامیابی کا انحصار فلسطینیوں کے حقوق کی بحالی پر ہے۔
انہوں نے یہ بھی تجویز دی کہ پاکستان، سعودی عرب، مصر اور خلیجی ممالک پر مشتمل ایک علاقائی پلیٹ فارم قائم کیا جائے جو خطے میں امن، تعاون اور استحکام کو فروغ دے۔ ان کا کہنا تھا کہ حالات معمول پر آنے کے بعد ایران بھی اس مجوزہ فورم کا حصہ بن سکتا ہے۔
حاقان فیدان نے زور دیا کہ خطے کے تمام ممالک کو ایک دوسرے کی خودمختاری اور سلامتی کا احترام کرنا چاہیے تاکہ تنازعات کے بجائے تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکیہ سمیت کئی مسلم اکثریتی ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ ابراہیمی معاہدے میں شامل ہوں۔