امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے پر اقوام متحدہ اور متعدد عالمی ممالک نے مثبت ردعمل دیتے ہوئے اسے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے دونوں ممالک کو معاہدے تک پہنچنے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ قدم تنازع کے پرامن حل کی طرف ایک بڑا سنگ میل ہے۔ انہوں نے پاکستان، قطر، مصر، سعودی عرب اور ترکیہ کے سفارتی کردار کو بھی سراہا۔
ان کے مطابق اس معاہدے سے نہ صرف فوری جنگ بندی کی امید بڑھے گی بلکہ آبنائے ہرمز کی بحالی عالمی تجارت کے لیے بھی مثبت ثابت ہوگی۔
دوسری جانب برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی نے مشترکہ بیان میں معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
یورپی ممالک نے کہا کہ اگر ایران قابلِ تصدیق اقدامات کرتا ہے تو اس کے بدلے میں پابندیوں میں نرمی پر غور کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز کے فوری اور غیرمشروط کھولنے کو عالمی معیشت کے استحکام کے لیے ضروری قرار دیا۔
بیان میں لبنان کی خودمختاری اور استحکام کی حمایت کا بھی اعادہ کیا گیا اور خطے میں دیرپا امن کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے پر زور دیا گیا۔
یہ معاہدہ عالمی سطح پر توانائی، تجارت اور جغرافیائی سیاست کے حوالے سے اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔