امریکی کانگریس میں ٹرمپ کی مجوزہ ایران ڈیل پر شدید تنقید
واشنگٹن: امریکی ڈیموکریٹ اراکینِ کانگریس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران سے متعلق مجوزہ ڈیل کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے “خوفناک” اور غیر مؤثر قرار دیا ہے۔
ڈیل پر ڈیموکریٹس کا ردعمل
کانگریس میں ڈیموکریٹ رہنماؤں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ مجوزہ معاہدہ امریکہ کے قومی مفاد کے مطابق نہیں اور اس کے نتائج تشویشناک ہو سکتے ہیں۔
کانگریس مین سیٹھ مولٹن نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ معاہدہ دراصل ایران کے سپریم لیڈر کے سامنے “جھکنے کے مترادف” ہے۔
ان کے مطابق یہ ڈیل امریکی پالیسی کی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے اور اس سے خطے میں حقیقی امن قائم ہونے کے امکانات محدود ہیں۔
مالی اور فوجی نقصانات پر سوالات
سیٹھ مولٹن نے مزید کہا کہ امریکہ اس تنازع میں پہلے ہی بھاری قیمت ادا کر چکا ہے۔
ان کے مطابق:
- امریکی ٹیکس دہندگان کے تقریباً 100 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں
- 14 امریکی فوجی جان کی بازی ہار چکے ہیں
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر مجوزہ ڈیل کے نتیجے میں صرف آبنائے ہرمز ہی کھلے گی، جو ان کے بقول پہلے ہی مکمل طور پر بند نہیں تھی، تو اسے کس طرح ایک کامیابی قرار دیا جا سکتا ہے۔
سیاسی بحث میں شدت
ڈیموکریٹ اراکین کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ زمینی حقائق کے بجائے سیاسی تاثر پر مبنی ہے اور اس سے امریکہ کی پالیسی پر مزید سوالات اٹھیں گے۔
امریکی سیاسی حلقوں میں اس ڈیل پر بحث تیزی سے بڑھ رہی ہے، جبکہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے تاحال اس تنقید پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔