امریکی بحری ناکہ بندی کا اثر: ایرانی خام تیل کی برآمدات میں 84 فیصد کی تاریخی کمی
شپنگ انڈسٹری کے معتبر اور عالمی جریدے "لائیڈز لسٹ" کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، امریکی بحری ناکہ بندی کے نتیجے میں ایرانی خام تیل کی برآمدات کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مئی کے مہینے میں ایران سے تیل کی سپلائی میں ریکارڈ حد تک کمی دیکھی گئی ہے جس نے ایرانی معیشت پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
مئی کے ہولناک اعداد و شمار
لائیڈز لسٹ کی رپورٹ میں ایرانی برآمدات کے حوالے سے درج ذیل چشم کشا حقائق سامنے آئے ہیں:
- ماہانہ کمی: مئی کے دوران ایرانی خام تیل کی مجموعی برآمدات میں گزشتہ ماہ (اپریل) کے مقابلے میں 84 فیصد تک کی غیر معمولی اور تاریخی کمی واقع ہوئی ہے۔
- سالانہ اوسط سے موازنہ: مئی میں ہونے والی یہ برآمدات اپریل کے اختتام تک پچھلے 12 ماہ کی اوسط کے مقابلے میں بھی 87 فیصد کم رہیں۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ناکہ بندی نے ایرانی سپلائی چین کو بری طرح مفلوج کر دیا ہے۔
بڑے ٹینکروں کے بجائے چھوٹے جہازوں کا استعمال
رپورٹ میں ایک اہم تزویراتی تبدیلی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ایران اب خام تیل کی ترسیل کے لیے اپنے روایتی بڑے ٹینکروں (VLCC) کا استعمال کرنے سے گریز کر رہا ہے۔
اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ بڑے بحری جہاز امریکی افواج کے ذریعے ٹریک کیے جانے اور روکے جانے کے شدید خطرے میں ہوتے ہیں۔ اسی فوجی کارروائی کے خوف سے بچنے کے لیے ایران اب بین الاقوامی پانیوں میں خام تیل کی ترسیل کے لیے چھوٹے آئل ٹینکرز کا سہارا لے رہا ہے، اگرچہ اس طریقے سے بڑے پیمانے پر تیل کی برآمدات ممکن نہیں رہیں۔
کشیدگی کا پسِ منظر
سمندری حدود میں جاری اس شدید فوجی اور معاشی کشیدگی کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب چند ماہ قبل 2 مارچ کو ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے عالمی تجارت کے لیے اہم ترین تجارتی گزرگاہ 'آبنائے ہرمز' پر بحری ناکہ بندی کا باقاعدہ اعلان کیا تھا۔
ایران کے اس اقدام کے جواب میں امریکی افواج نے جوابی حکمتِ عملی اپنائی اور 13 اپریل سے ایران کی اپنی بندرگاہوں پر سخت بحری ناکہ بندی نافذ کرنا شروع کر دی، جس کے اثرات اب مئی کے مہینے میں خام تیل کی برآمدات کے ان گرتے ہوئے اعداد و شمار کی صورت میں کھل کر دنیا کے سامنے آ رہے ہیں۔