امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ جاری تنازع کا حل سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے نکالنا چاہتا ہے، تاہم اگر بات چیت ناکام ہو جاتی ہے تو فوجی کارروائی سمیت تمام آپشنز بدستور موجود ہیں۔
بین الاقوامی دفاعی فورم سے خطاب کرتے ہوئے پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ واشنگٹن کی ترجیح ایک ایسا مؤثر اور قابلِ قبول معاہدہ ہے جو خطے میں استحکام اور سلامتی کو یقینی بنا سکے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ مذاکراتی عمل کو سنجیدگی سے آگے بڑھانا چاہتا ہے، لیکن مطلوبہ نتائج حاصل ہونے تک تمام ممکنہ راستے کھلے رکھے گئے ہیں۔
امریکی وزیرِ دفاع نے مزید کہا کہ امریکی فوج کے پاس مشرقِ وسطیٰ میں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل صلاحیت، وسائل اور تیاری موجود ہے۔
پیٹ ہیگستھ کے مطابق اگر ایران کے ساتھ جاری سفارتی کوششیں کسی نتیجے تک نہ پہنچ سکیں تو واشنگٹن دوبارہ عسکری کارروائی سمیت دیگر متبادل اقدامات پر غور کر سکتا ہے۔
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور عالمی برادری ممکنہ تصادم کے خطرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔