امریکا کے ایک سینئر عہدیدار نے ایران کے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوتے ہی 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے بحال کر دیے جائیں گے۔
امریکی حکام کے مطابق کسی بھی مالی وسائل کی بحالی ایران کی جانب سے معاہدے پر مکمل عمل درآمد سے مشروط ہوگی، اور اس حوالے سے کوئی فوری یا غیر مشروط ریلیف نہیں دیا جائے گا۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے دعویٰ کیا تھا کہ معاہدے کے بعد منجمد فنڈز بحال کر دیے جائیں گے، تاہم امریکی عہدیدار نے ان دعوؤں کو “گمراہ کن” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی اطلاعات حقیقت پر مبنی نہیں ہیں۔
ایک امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں عہدیدار نے کہا کہ ایران صورتحال کو اپنے انداز میں پیش کر رہا ہے، جبکہ اصل پالیسی واضح ہے کہ مالی اقدامات پیش رفت اور وعدوں کی تکمیل سے جڑے ہوں گے۔
دوسری جانب ایران کا مؤقف ہے کہ کسی بھی حتمی مذاکرات سے قبل بعض بنیادی اقدامات ضروری ہیں، جن میں منجمد اثاثوں کی بحالی اور بعض پابندیوں میں نرمی شامل ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات اور مجوزہ معاہدے پر عالمی سطح پر توجہ مرکوز ہے، جبکہ تفصیلات ابھی تک مکمل طور پر واضح نہیں ہو سکیں۔