واشنگٹن / بحیرہ عرب: امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن بحیرہ عرب میں اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے اور ایران کے خلاف عائد امریکی بحری پابندیوں کے نفاذ میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔
سینٹکام کی جانب سے جاری بیان کے مطابق کیریئر اسٹرائیک گروپ خطے میں مسلسل گشت، نگرانی اور سکیورٹی آپریشنز انجام دے رہا ہے تاکہ سمندری راستوں پر امریکی پالیسیوں اور پابندیوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔
امریکی فوج کے مطابق اب تک 122 تجارتی بحری جہازوں کو ان کے طے شدہ راستوں سے ہٹا کر متبادل روٹس اختیار کرنے پر مجبور کیا گیا، جس کا مقصد پابندیوں کی خلاف ورزیوں کو روکنا اور بین الاقوامی قواعد کی پاسداری یقینی بنانا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور خلیج، بحیرہ عرب اور آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی کے لیے اہم جغرافیائی مراکز بنے ہوئے ہیں۔
دفاعی ماہرین کے مطابق بحیرہ عرب میں امریکی بحری موجودگی نہ صرف ایران پر دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے بلکہ عالمی شپنگ روٹس اور تیل کی ترسیل کے تحفظ سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ خطے میں کسی بھی نئی کشیدگی کے عالمی توانائی منڈیوں اور سمندری تجارت پر فوری اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
سینٹکام نے اپنے بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ امریکی افواج خطے میں سمندری سلامتی، بین الاقوامی تجارت کے تحفظ اور اتحادی ممالک کے مفادات کے دفاع کے لیے اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گی۔