پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے درمیان بجٹ مذاکرات کے بعد آئندہ مالی سال کے بجٹ سے متعلق اہم تفصیلات سامنے آ گئی ہیں، جن کے مطابق مختلف درآمدی اشیا اور صنعتی خام مال پر ٹیکس میں نمایاں کمی کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت آئندہ بجٹ میں ریگولیٹری ڈیوٹی اور ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی میں کمی پر غور کر رہی ہے، جس سے متعدد درآمدی اشیا نسبتاً سستی ہو سکتی ہیں۔
بتایا جا رہا ہے کہ امپورٹڈ گاڑیوں پر ڈیوٹی میں کمی کے امکانات بھی موجود ہیں، جبکہ ایکسپورٹ انڈسٹری کے لیے خام مال پر عائد ٹیرف میں کمی کی تجویز زیر غور ہے۔ اس سے مقامی برآمدی شعبے کو عالمی منڈی میں مسابقت بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق وزارت صنعت و تجارت نے نیشنل ٹیرف پالیسی کا مسودہ تیار کر لیا ہے، جس کا مقصد آئی ایم ایف اہداف کے مطابق مجموعی ٹیرف ڈھانچے میں اصلاحات لانا ہے۔
تفصیلات کے مطابق 3 ہزار سے زائد ٹیرف لائنز پر ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی میں کمی کی جا سکتی ہے، جبکہ 1900 سے زائد لائنز پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں بھی کمی کا امکان ہے۔
زرعی شعبے سے وابستہ درآمدی خام مال، مشینری اور پرزہ جات پر بھی ٹیکس میں کمی کی تجویز دی گئی ہے تاکہ پیداواری لاگت کم ہو سکے۔
اسی طرح الیکٹرک گاڑیوں، بائیک پلانٹس اور فائیو جی ٹیلی کام آلات پر بھی ٹیکس میں نرمی کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
حکام کے مطابق ان اقدامات کا مقصد معیشت کو زیادہ کھلا اور مسابقتی بنانا ہے، تاہم حتمی فیصلے آئندہ بجٹ میں کیے جائیں گے۔