ایران تنازع کے باوجود سونے کی قیمتوں میں کمی کیوں آ رہی ہے؟
عالمی سطح پر جنگوں، سیاسی بحرانوں اور غیر یقینی صورتحال کے دوران سونے کو محفوظ سرمایہ کاری (Safe Haven Asset) سمجھا جاتا ہے، جس کے باعث عام طور پر اس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔ تاہم ایران سے متعلق حالیہ کشیدگی کے باوجود سونے کی قیمتوں میں متوقع اضافہ نہیں ہو سکا بلکہ قیمتیں دباؤ کا شکار نظر آ رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس غیر معمولی صورتحال کی بنیادی وجوہات میں بلند شرحِ سود، مضبوط امریکی ڈالر اور مہنگائی کے بڑھتے ہوئے خدشات شامل ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود سونے کی قیمتوں میں نمایاں تیزی نہیں آ سکی۔
مالیاتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سرمایہ کار اس وقت اپنی توجہ مرکزی بینکوں کی پالیسیوں پر مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ عالمی منڈی میں یہ توقع بڑھ رہی ہے کہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مرکزی بینک شرحِ سود کو طویل عرصے تک بلند رکھ سکتے ہیں یا بعض صورتوں میں مزید اضافہ بھی کر سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق سونا ایسی سرمایہ کاری ہے جو منافع یا سود فراہم نہیں کرتی۔ اس لیے جب بینکوں اور مالیاتی اداروں میں شرحِ سود زیادہ ہو تو سرمایہ کار سونے کے بجائے ایسے اثاثوں کو ترجیح دیتے ہیں جو بہتر منافع فراہم کرتے ہوں۔
دوسری جانب امریکی ڈالر کی مضبوطی بھی سونے کی قیمتوں پر منفی اثر ڈال رہی ہے۔ چونکہ عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت ڈالر میں طے کی جاتی ہے، اس لیے ڈالر مہنگا ہونے کی صورت میں دیگر ممالک کے خریداروں کے لیے سونا خریدنا نسبتاً مہنگا ہو جاتا ہے، جس سے طلب میں کمی آ سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران سے متعلق کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال نے تیل کی قیمتوں کو متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی مہنگائی کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شرحِ سود میں فوری کمی کے امکانات کمزور پڑ گئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر مستقبل میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی آتی ہے یا کسی ممکنہ معاہدے پر پیش رفت ہوتی ہے تو عالمی منڈیوں میں استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔ ایسی صورتحال میں سونے کی قیمتوں کا رخ مرکزی بینکوں کی پالیسیوں، ڈالر کی طاقت اور عالمی معاشی حالات پر زیادہ انحصار کرے گا۔
ماہرین کا خیال ہے کہ آنے والے مہینوں میں سونے کی قیمتوں کے تعین میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے ساتھ ساتھ شرحِ سود اور مہنگائی کے اعداد و شمار کلیدی کردار ادا کریں گے۔