خارگ جزیرہ کیا ہے اور ایران کے لیے کیوں اہم ہے؟ ٹرمپ کی دھمکی کے بعد توجہ کا مرکز بن گیا
واشنگٹن/تہران: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے اہم تیل بردار جزیرے خارگ پر کنٹرول حاصل کرنے کی دھمکی کے بعد یہ جزیرہ ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا مستقبل قریب میں خارگ جزیرے اور ایران کے دیگر اہم تیل و گیس انفراسٹرکچر کا کنٹرول سنبھال سکتا ہے۔ ان کے اس بیان نے خطے میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
خارگ جزیرہ کہاں واقع ہے؟
خارگ جزیرہ ایران کے جنوب مغرب میں خلیج فارس میں واقع ہے اور انتظامی طور پر صوبہ بوشہر کا حصہ ہے۔ تقریباً 20 مربع کلومیٹر رقبے پر مشتمل یہ جزیرہ ایران کی معیشت کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
ایران کی تیل برآمدات کا مرکز
خارگ جزیرہ ایران کی خام تیل برآمدات کا سب سے بڑا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایران کی تقریباً 90 فیصد خام تیل برآمدات اسی جزیرے کے ذریعے دنیا کے مختلف ممالک تک پہنچتی ہیں۔
جزیرے پر موجود وسیع ذخیرہ گاہوں میں دو کروڑ بیرل سے زائد خام تیل محفوظ کیا جا سکتا ہے، جبکہ جنوبی ایران کے تیل پیدا کرنے والے علاقوں سے خام تیل زیرِ سمندر پائپ لائنوں کے ذریعے یہاں منتقل کیا جاتا ہے۔
ابوذر آئل فیلڈ کی اہمیت
ایران کا سب سے بڑا آف شور تیل منصوبہ "ابوذر آئل فیلڈ" خارگ جزیرے سے تقریباً 75 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے۔ خلیج فارس میں ایران کی تیل پیداوار کا بڑا حصہ اسی فیلڈ سے حاصل کیا جاتا ہے۔
ابوذر آئل فیلڈ کے تین بڑے پلیٹ فارمز روزانہ تقریباً 80 ہزار بیرل تیل پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جبکہ اس سے منسلک آئل پروسیسنگ پلانٹ بھی خارگ جزیرے میں قائم ہے۔
ایران عراق جنگ میں اہم ہدف
1980 سے 1988 تک جاری ایران عراق جنگ کے دوران خارگ جزیرہ ایران کی معیشت کی شہ رگ سمجھا جاتا تھا۔ اسی وجہ سے عراقی افواج نے جنگ کے دوران اس چھوٹے سے جزیرے پر ہزاروں حملے کیے تھے تاکہ ایران کی تیل برآمدات کو متاثر کیا جا سکے۔
پیٹروکیمیکل اور گیس صنعت کا مرکز
خارگ جزیرے میں پیٹروکیمیکل صنعت بھی فعال ہے جہاں قدرتی گیس کو مختلف صنعتی مصنوعات میں تبدیل کیا جاتا ہے۔ یہاں میتھانول، سلفر، پروپین، بیوٹین اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔
ٹرمپ کی دھمکی کیوں اہم ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خارگ جزیرے کی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں تو ایران کی تیل برآمدات اور معیشت کو شدید دھچکا پہنچ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ جزیرہ نہ صرف ایران بلکہ عالمی توانائی منڈی کے لیے بھی انتہائی اہم حیثیت رکھتا ہے۔
حالیہ امریکی بیانات کے بعد خارگ جزیرہ ایک بار پھر مشرق وسطیٰ کی بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی توانائی سلامتی کے حوالے سے اہم موضوع بن گیا ہے۔