چھ ماہ کی محنت رنگ لے آئی، چینی طلبہ نے دنیا کا سب سے بڑا کاغذی جہاز اُڑا دیا
کاغذی جہاز تو تقریباً ہر بچے نے کبھی نہ کبھی بنایا ہوگا، لیکن چین کے چند ہائی اسکول طلبہ نے اس سادہ سے شوق کو ایک حیران کن عالمی ریکارڈ میں تبدیل کر دیا۔
چین کے شہر شین ژین کے ژیلی مڈل اسکول کے طلبہ کی ایک ٹیم نے دنیا کا سب سے بڑا ریموٹ کنٹرول کاغذی جہاز تیار کر کے گنیز ورلڈ ریکارڈ اپنے نام کر لیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس غیرمعمولی منصوبے پر تقریباً چھ ماہ تک مسلسل کام کیا گیا۔
یہ دیوہیکل کاغذی جہاز 6.06 میٹر چوڑے پروں اور 5.06 میٹر لمبے ڈھانچے پر مشتمل ہے، جو اسے اپنی نوعیت کا دنیا کا سب سے بڑا ریموٹ کنٹرول کاغذی جہاز بناتا ہے۔
اس ماہ کے آغاز میں جب اس کا عملی تجربہ کیا گیا تو یہ توقعات سے بڑھ کر کامیاب ثابت ہوا۔ جہاز تقریباً 15 منٹ تک فضا میں پرواز کرتا رہا اور بعد ازاں کامیابی کے ساتھ زمین پر اتر آیا، جس پر طلبہ اور اساتذہ خوشی سے جھوم اٹھے۔
منصوبے کے چیف ڈیزائنر اور پائلٹ ژو جونجیے کے مطابق ٹیم کا مقصد ایک عام کاغذی جہاز کے بنیادی اصولوں کو جدید انجینئرنگ ٹیکنالوجی کے ساتھ جوڑ کر ایسا ماڈل تیار کرنا تھا جو نہ صرف مستحکم ہو بلکہ اپنے حجم کے لحاظ سے بھی سب کو حیران کر دے۔
ژو جونجیے نے بتایا کہ گزشتہ سال اکتوبر میں ان کی ٹیم نے چائنا انٹرنیشنل ایئرکرافٹ ڈیزائن چیلنج میں چیمپئن شپ جیتنے کے ساتھ قومی ریکارڈ بھی قائم کیا تھا۔ اسی کامیابی نے انہیں مزید بڑے خواب دیکھنے اور عالمی ریکارڈ کی جانب قدم بڑھانے کا حوصلہ دیا۔
تحقیق کے دوران ٹیم کو معلوم ہوا کہ دنیا میں اس سائز کا کوئی ریموٹ کنٹرول کاغذی جہاز موجود نہیں، چنانچہ انہوں نے سب سے بڑا ماڈل بنانے کا ہدف مقرر کیا اور اسے حقیقت میں بدل کر دکھا دیا۔
اسکول کے ماڈل ایئرکرافٹ کلب کے انسٹرکٹر ژو گویون کے مطابق سب سے بڑا چیلنج جہاز کا غیرمعمولی سائز تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اتنے بڑے طیارے میں زاویے کی صرف ایک ڈگری تبدیلی یا مرکزِ ثقل میں چند سینٹی میٹر کی معمولی حرکت بھی پرواز کے توازن اور استحکام کو براہِ راست متاثر کر سکتی ہے۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اس منصوبے پر کام کرنے والی بنیادی ٹیم کی اوسط عمر صرف 16 سال تھی، لیکن انہوں نے ایسے پیچیدہ انجینئرنگ مسائل حل کیے جنہیں بعض اوقات تجربہ کار ماہرینِ ہوابازی کے لیے بھی مشکل سمجھا جاتا ہے۔
یہ کامیابی ثابت کرتی ہے کہ جذبہ، تخلیقی سوچ اور مسلسل محنت ہو تو ایک سادہ کاغذی جہاز بھی عالمی ریکارڈ کا حصہ بن سکتا ہے۔