اسپین میں 2000 سال پرانا رومی سنگِ مرمر کا مجسمہ دریافت، ماہرین حیران
اسپین کے دارالحکومت میڈرڈ کے قریب ایک تعمیراتی منصوبے کے دوران مزدوروں کو ایک ایسی نایاب تاریخی دریافت ہوئی ہے جس نے ماہرینِ آثارِ قدیمہ کو بھی حیرت میں ڈال دیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صوبہ الی کانتے کے مشہور ساحل “المادربا” پر کھدائی کے دوران رومی دور کا تقریباً دو ہزار سال پرانا سنگِ مرمر سے بنا ایک خوبصورت بسٹ دریافت ہوا ہے۔
بہترین حالت میں محفوظ مجسمہ
ماہرین کے مطابق یہ مجسمہ غیر معمولی طور پر بہترین حالت میں محفوظ تھا، تاہم اس کی ناک کا ایک چھوٹا سا حصہ معمولی طور پر متاثر پایا گیا۔ اس کے علاوہ باقی ڈھانچہ حیران کن حد تک مکمل اور واضح ہے۔
ابتدائی طور پر تعمیراتی کام میں مصروف مزدوروں نے اسے عام پتھر سمجھا، لیکن بعد ازاں آثارِ قدیمہ کے ماہرین کو موقع پر طلب کیا گیا جنہوں نے اس کی تاریخی اہمیت کی تصدیق کی۔
رومی دور کی اہم دریافت
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مجسمہ پہلی یا دوسری صدی عیسوی کا ہو سکتا ہے اور اسے رومی دور کے اہم ثقافتی آثار میں شمار کیا جا رہا ہے۔
الی کانتے میں اس نوعیت کی دریافت کو خطے کی تاریخ اور رومی تہذیب کی موجودگی کے حوالے سے ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ممکنہ شناخت
ابتدائی اندازوں کے مطابق یہ سفید سنگِ مرمر سے تیار کردہ مجسمہ ممکنہ طور پر رومی دیوی “وینس” کی شبیہ ہو سکتا ہے، تاہم اس کی حتمی تصدیق مزید تحقیق کے بعد کی جائے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دریافت سے رومی تہذیب کے فن، مجسمہ سازی اور ساحلی علاقوں میں ان کی موجودگی کے بارے میں نئی معلومات حاصل ہونے کی توقع ہے۔