Ad Blocker Detected

We rely on ads to keep our content free. Please whitelist this site in your ad blocker, then refresh to continue reading.

How to whitelist this site

  1. Click your ad blocker icon in the browser toolbar.
  2. Find "Whitelist this site" or "Disable on this page".
  3. Click the button below and we'll verify automatically.
⏳ Verifying, please wait…
❌ Ad blocker still active. Please whitelist this site and try again.
✅ All good! Reloading…
|
اردوپیور NEWS
لائیو
تازہ ترین
انگریزی بولنے کی پریکٹس کیسے کریں؟ | مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ، ڈیپ لرننگ، جنریٹو اے آئی، بڑے لسانی ماڈلز، معلوماتی معاون نظام اور خودکار عملی اے آئی میں فرق | روس میں ہٹلر کے نام سے پیزا آرڈر کرنے والے طالب علم کو 5 روز قید کی سزا | ہفتے میں دو دن اسمارٹ فون بند رکھنے کا حیران کن تجربہ، فوائد بھی سامنے آئے اور مشکلات بھی | چین میں انسان نما روبوٹس سڑکوں پر ’بھیک مانگتے‘ نظر آئے، ویڈیوز وائرل | فیفا ورلڈ کپ بخار: بنگلادیش میں ارجنٹائن کے رنگوں میں رنگی بھیڑ کی ویڈیو وائرل | جنوبی کوریا: مصنوعی ذہانت سے چلنے والی گڑیا بزرگ خاتون کی بہترین ساتھی بن گئی | نوجوان ڈیٹا ویژولائزیشن سیکھ کر پیسے کیسے کما سکتے ہیں؟ 6 ماہ کا عملی روڈ میپ | انگریزی بولنے کی پریکٹس کیسے کریں؟ | مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ، ڈیپ لرننگ، جنریٹو اے آئی، بڑے لسانی ماڈلز، معلوماتی معاون نظام اور خودکار عملی اے آئی میں فرق | روس میں ہٹلر کے نام سے پیزا آرڈر کرنے والے طالب علم کو 5 روز قید کی سزا | ہفتے میں دو دن اسمارٹ فون بند رکھنے کا حیران کن تجربہ، فوائد بھی سامنے آئے اور مشکلات بھی | چین میں انسان نما روبوٹس سڑکوں پر ’بھیک مانگتے‘ نظر آئے، ویڈیوز وائرل | فیفا ورلڈ کپ بخار: بنگلادیش میں ارجنٹائن کے رنگوں میں رنگی بھیڑ کی ویڈیو وائرل | جنوبی کوریا: مصنوعی ذہانت سے چلنے والی گڑیا بزرگ خاتون کی بہترین ساتھی بن گئی | نوجوان ڈیٹا ویژولائزیشن سیکھ کر پیسے کیسے کما سکتے ہیں؟ 6 ماہ کا عملی روڈ میپ |

موہنجوداڑو کی قدیم مہر پر تنازع — شیوا سے تعلق یا محض تاریخی غلط فہمی؟

موہنجوداڑو سے دریافت ہونے والی 4300 سال پرانی مہر ایک بار پھر بحث کا مرکز بن گئی ہے، جہاں ماہرین اس کے شیوا سے تعلق اور وادیٔ سندھ کی تہذیب کے مذہبی پہلو پر مختلف آراء رکھتے ہیں۔

javaid 30 May 2026 1 منٹ پڑھیں 106

موہنجوداڑو کی قدیم مہر پر تنازع — شیوا سے تعلق یا تاریخی علامت کی مختلف تشریحات؟

موہنجوداڑو سے دریافت ہونے والی ایک انتہائی قدیم مہر ایک بار پھر ماہرینِ آثارِ قدیمہ اور تاریخ دانوں کے درمیان بحث کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ یہ مہر تقریباً 4300 سال پرانی سمجھی جاتی ہے اور وادیٔ سندھ کی تہذیب (Indus Valley Civilization) کے اہم آثار میں شمار ہوتی ہے۔

یہ بحث اس وقت دوبارہ سامنے آئی جب بھارت کی وزارتِ ثقافت نے سوشل میڈیا پر اس مہر کی تصویر شیئر کرتے ہوئے اسے قدیم بھارتی تہذیب کی علامت قرار دیا۔ اس کے ساتھ یہ مؤقف بھی پیش کیا گیا کہ مہر پر موجود نقش کو “شیوا پشوپتی” یعنی ہندو دیوتا شیو کی ابتدائی شکل کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

اس دعوے کے بعد مختلف بین الاقوامی ماہرین نے اس تشریح پر اختلاف کیا۔ امریکی تاریخ دان آڈری ٹروشکے سمیت کئی محققین کا کہنا ہے کہ اس نقش کو شیوا سے جوڑنے کے لیے کوئی ٹھوس سائنسی یا تحریری ثبوت موجود نہیں ہے۔

ان ماہرین کے مطابق یہ تصویر ممکنہ طور پر کسی وسیع تر قدیم ثقافتی علامت یا “جانوروں کے مالک” جیسے تصور کی نمائندگی ہو سکتی ہے، جو قدیم ایران اور وسطی ایشیا کی مختلف تہذیبوں میں بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔

مہر پر ایک انسانی شکل کے ساتھ ہاتھی، بھینس اور گینڈے جیسے جانور بھی دکھائی دیتے ہیں۔ کچھ محققین کے مطابق یہ جانور وادیٔ سندھ کے مقامی ماحول کی عکاسی کرتے ہیں، جبکہ دیگر اسے علامتی یا مذہبی اظہار قرار دیتے ہیں۔

کچھ بھارتی محققین کا کہنا ہے کہ اس شخصیت کی نشست یوگا کے انداز سے مشابہ ہے، تاہم دوسرے ماہرین کے مطابق یہ صرف ایک بصری تشریح ہے اور اس کا یوگا یا جدید مذہبی تصورات سے براہِ راست تعلق ثابت نہیں کیا جا سکتا۔

تاریخی حوالوں کے مطابق 1920 کی دہائی میں برطانوی ماہرِ آثارِ قدیمہ سر جان مارشل نے پہلی بار اس مہر کو شیوا سے منسلک کرنے کا نظریہ پیش کیا تھا، تاہم یہ ایک ابتدائی قیاس تھا جس کی بعد میں حتمی تصدیق نہیں ہو سکی۔

کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ مہر پر موجود سینگ نما ساخت کو تریشول سمجھنا درست نہیں ہو سکتا اور یہ کسی جانور یا علامتی ڈیزائن کی نمائندگی بھی ہو سکتی ہے۔

جدید تحقیق کا عمومی مؤقف یہ ہے کہ وادیٔ سندھ کی تحریر (Indus Script) ابھی تک مکمل طور پر پڑھ نہیں جا سکی، اس لیے اس تہذیب سے متعلق مذہبی یا ثقافتی نتائج پر حتمی رائے دینا مشکل ہے۔

یہ بحث اب صرف آثارِ قدیمہ تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے ایک وسیع علمی اور نظریاتی اختلاف کو بھی جنم دیا ہے، جہاں ایک طرف اسے تہذیبی تسلسل کی علامت سمجھا جاتا ہے اور دوسری طرف اسے غیر مصدقہ تشریحات سے جوڑنے پر تنقید کی جاتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اس مہر کی اصل حقیقت تب ہی واضح ہو سکے گی جب وادیٔ سندھ کی تحریر مکمل طور پر ڈی کوڈ کر لی جائے گی۔

شیئر کریں:

مزید پڑھیں

App

Learn English in Urdu

★★★★☆ (1M+ Downloads)

OPEN APP