موہنجوداڑو کی قدیم مہر پر تنازع — شیوا سے تعلق یا تاریخی علامت کی مختلف تشریحات؟
موہنجوداڑو سے دریافت ہونے والی ایک انتہائی قدیم مہر ایک بار پھر ماہرینِ آثارِ قدیمہ اور تاریخ دانوں کے درمیان بحث کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ یہ مہر تقریباً 4300 سال پرانی سمجھی جاتی ہے اور وادیٔ سندھ کی تہذیب (Indus Valley Civilization) کے اہم آثار میں شمار ہوتی ہے۔
یہ بحث اس وقت دوبارہ سامنے آئی جب بھارت کی وزارتِ ثقافت نے سوشل میڈیا پر اس مہر کی تصویر شیئر کرتے ہوئے اسے قدیم بھارتی تہذیب کی علامت قرار دیا۔ اس کے ساتھ یہ مؤقف بھی پیش کیا گیا کہ مہر پر موجود نقش کو “شیوا پشوپتی” یعنی ہندو دیوتا شیو کی ابتدائی شکل کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
اس دعوے کے بعد مختلف بین الاقوامی ماہرین نے اس تشریح پر اختلاف کیا۔ امریکی تاریخ دان آڈری ٹروشکے سمیت کئی محققین کا کہنا ہے کہ اس نقش کو شیوا سے جوڑنے کے لیے کوئی ٹھوس سائنسی یا تحریری ثبوت موجود نہیں ہے۔
ان ماہرین کے مطابق یہ تصویر ممکنہ طور پر کسی وسیع تر قدیم ثقافتی علامت یا “جانوروں کے مالک” جیسے تصور کی نمائندگی ہو سکتی ہے، جو قدیم ایران اور وسطی ایشیا کی مختلف تہذیبوں میں بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔
مہر پر ایک انسانی شکل کے ساتھ ہاتھی، بھینس اور گینڈے جیسے جانور بھی دکھائی دیتے ہیں۔ کچھ محققین کے مطابق یہ جانور وادیٔ سندھ کے مقامی ماحول کی عکاسی کرتے ہیں، جبکہ دیگر اسے علامتی یا مذہبی اظہار قرار دیتے ہیں۔
کچھ بھارتی محققین کا کہنا ہے کہ اس شخصیت کی نشست یوگا کے انداز سے مشابہ ہے، تاہم دوسرے ماہرین کے مطابق یہ صرف ایک بصری تشریح ہے اور اس کا یوگا یا جدید مذہبی تصورات سے براہِ راست تعلق ثابت نہیں کیا جا سکتا۔
تاریخی حوالوں کے مطابق 1920 کی دہائی میں برطانوی ماہرِ آثارِ قدیمہ سر جان مارشل نے پہلی بار اس مہر کو شیوا سے منسلک کرنے کا نظریہ پیش کیا تھا، تاہم یہ ایک ابتدائی قیاس تھا جس کی بعد میں حتمی تصدیق نہیں ہو سکی۔
کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ مہر پر موجود سینگ نما ساخت کو تریشول سمجھنا درست نہیں ہو سکتا اور یہ کسی جانور یا علامتی ڈیزائن کی نمائندگی بھی ہو سکتی ہے۔
جدید تحقیق کا عمومی مؤقف یہ ہے کہ وادیٔ سندھ کی تحریر (Indus Script) ابھی تک مکمل طور پر پڑھ نہیں جا سکی، اس لیے اس تہذیب سے متعلق مذہبی یا ثقافتی نتائج پر حتمی رائے دینا مشکل ہے۔
یہ بحث اب صرف آثارِ قدیمہ تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے ایک وسیع علمی اور نظریاتی اختلاف کو بھی جنم دیا ہے، جہاں ایک طرف اسے تہذیبی تسلسل کی علامت سمجھا جاتا ہے اور دوسری طرف اسے غیر مصدقہ تشریحات سے جوڑنے پر تنقید کی جاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اس مہر کی اصل حقیقت تب ہی واضح ہو سکے گی جب وادیٔ سندھ کی تحریر مکمل طور پر ڈی کوڈ کر لی جائے گی۔