کراچی کے عین قلب میں ہر اتوار کو جانوروں کا ایک ایسا بازار سجتا ہے، جس کے بارے میں مقامی لوگوں کا دعویٰ ہے کہ یہاں اکثر چوری شدہ پالتو جانور بھی فروخت کیے جاتے ہیں۔ تاریخی ایمپریس مارکیٹ کے پہلو اور رینبو سینٹر کے عقب میں تنگ گلیوں پر مشتمل یہ بازار، اپنے اندر کئی حیران کن اور بعض اوقات تاریک حقائق چھپائے ہوئے ہے۔ یہاں قدم رکھتے ہی آپ کا سامنا عام پالتو جانوروں سے لے کر نایاب اور غیر ملکی پرندوں تک سے ہوتا ہے۔
دلخراش مناظر اور جانوروں کی خستہ حالی
اس بازار کی گہرائی میں جانے پر جو مناظر سامنے آتے ہیں، وہ کسی بھی حساس انسان کو افسردہ کر سکتے ہیں۔ یہاں کتے، بلیاں، طوطے، ہیمسٹرز (چوہے)، کچھوے اور یہاں تک کہ اُلو بھی چھوٹے اور تنگ پنجروں میں قید نظر آتے ہیں۔ جانوروں کی دیکھ بھال کا معیار انتہائی ناقص اور تشویشناک ہے۔ بعض مقامات پر تو کتوں کو بوریوں میں ٹھونس کر لایا جاتا ہے اور وہیں سے نکال کر گاہکوں کو دکھایا جاتا ہے۔ شدید گرمی اور حبس کے باعث جانور ہانپتے اور نڈھال نظر آتے ہیں، جو کہ ان بے زبانوں پر ہونے والے صریح ظلم کی عکاسی کرتا ہے۔
مشکوک سرگرمیاں اور چوری شدہ جانوروں کی منڈی
اس بازار کا ایک تاریک پہلو یہ بھی ہے کہ یہاں مبینہ طور پر چوری شدہ پالتو جانوروں کی خرید و فروخت کا دھندہ بھی عروج پر ہے۔ اعلیٰ نسل کے قیمتی کتے (جیسے امریکن لیبراڈور) اور بلیاں، جو گھروں سے چوری ہو جاتے ہیں، اکثر اسی بازار کی زینت بنتے ہیں۔ چونکہ یہ ایک غیر قانونی اور خفیہ سرگرمی ہے، اس لیے یہاں کے دکاندار کیمرے کی آنکھ سے کتراتے ہیں اور اکثر اجنبیوں کو قیمت بتانے سے بھی گریز کرتے ہیں، تاکہ ان کے اس مشکوک کاروبار پر کوئی آنچ نہ آئے۔
نایاب اور غیر ملکی حیات
عام پالتو جانوروں کی موجودگی تو سمجھ میں آتی ہے، لیکن اس بازار میں بعض اوقات ایسے غیر ملکی اور نایاب جانور بھی دیکھنے کو ملتے ہیں جن کی یہاں موجودگی بذاتِ خود ایک سوالیہ نشان ہے۔ آسٹریلوی پرندے، عقاب اور دیگر نایاب جانور کھلے عام فروخت ہوتے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق، اگر آپ کا تعلقات کا دائرہ وسیع ہو اور آپ 'مخصوص' لوگوں تک رسائی رکھتے ہوں، تو نجی اور خفیہ نیٹ ورکس کے ذریعے آپ کو شیر جیسے خطرناک اور انتہائی نایاب جانور بھی باآسانی مل سکتے ہیں۔
خونی کھیل اور غیر قانونی شرطیں
جانوروں کی فروخت کے ساتھ ساتھ، بازار کے ایک مخصوص حصے میں مرغوں کی لڑائی (Cockfighting) کے خونی کھیل بھی منعقد کیے جاتے ہیں۔ گو کہ پاکستان میں جانوروں کو لڑانا اور اس پر جوا کھیلنا قانوناً جرم اور شرعاً حرام ہے، لیکن یہاں کھلے عام ان مقابلوں پر بھاری شرطیں لگائی جاتی ہیں۔ مزید برآں، سانپ کا تماشا دکھانے والے، کرتب کرنے والے بندر اور بعض اوقات ریچھ بھی نظر آتے ہیں، جو جانوروں کے حقوق کی کھلی پامالی کی زندہ مثالیں ہیں۔
حفظانِ صحت کے مخدوش حالات
اس قدر بڑی تعداد میں جانوروں اور پرندوں کی موجودگی نے پورے علاقے کی فضا کو انتہائی آلودہ کر رکھا ہے۔ ہوا میں اڑتے ہوئے پر، گرد و غبار، اور جانوروں کے فضلے کی بدبو کی وجہ سے یہاں سانس لینا بھی محال ہو جاتا ہے۔ سب سے پریشان کن بات یہ ہے کہ اسی غلیظ اور تعفن زدہ فضا کے عین بیچوں بیچ کھانے پینے کی اشیاء (جیسے فرینچ فرائز اور دیگر تلی ہوئی چیزیں) بھی فروخت ہو رہی ہوتی ہیں، جن میں اڑتے ہوئے پر اور خطرناک جراثیم شامل ہونے کا قوی امکان رہتا ہے۔
ایمپریس مارکیٹ کا یہ پالتو بازار کراچی کا ایک اہم مگر انتہائی متنازع اور تاریک چہرہ پیش کرتا ہے، جہاں جانوروں کی بے بسی، منافع خوری، غیر قانونی سرگرمیاں اور غلاظت سب ایک جگہ جمع ہیں۔ ایک باشعور شہری ہونے کے ناطے ہمیں چاہیے کہ ایسے استحصالی بازاروں سے جانور خرید کر اس غیر انسانی کاروبار کی حوصلہ افزائی کرنے کے بجائے، بے سہارا جانوروں کے فلاحی مراکز کا رخ کریں اور وہاں سے جانور گود لیں، تاکہ ان بے زبانوں کو ایک محفوظ اور پرسکون زندگی مل سکے۔