انسٹاگرام نے اپنے ڈائریکٹ میسیجز (ڈی ایمز) سے متعلق ایک بڑا پرائیویسی فیصلہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ 8 مئی 2026 کے بعد پلیٹ فارم پر اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن (E2EE) کی سہولت ختم کر دی جائے گی۔
اس تبدیلی کے بعد انسٹاگرام پر بھیجے جانے والے پیغامات، تصاویر، ویڈیوز اور وائس نوٹس پہلے کی طرح مکمل طور پر خفیہ نہیں رہیں گے، کیونکہ کمپنی کو ان مواد تک رسائی حاصل ہو سکے گی۔
اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کو آن لائن پیغام رسانی کا سب سے محفوظ نظام سمجھا جاتا ہے، جس میں صرف پیغام بھیجنے والا اور وصول کرنے والا ہی گفتگو دیکھ سکتا ہے۔ تاہم اس کے ناقدین کا مؤقف ہے کہ ایسی ٹیکنالوجی مجرمانہ سرگرمیوں اور بچوں کے استحصال جیسے معاملات کو چھپانے میں مدد دے سکتی ہے۔
میٹا کے اس فیصلے کو بعض حلقے صارفین کی سکیورٹی کے لیے ضروری قرار دے رہے ہیں جبکہ پرائیویسی کے حامی اسے صارفین کی نجی معلومات کے تحفظ کے خلاف قدم قرار دے رہے ہیں۔
بچوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ این ایس پی سی سی سے وابستہ رانی گوویندر کے مطابق یہ فیچر بعض اوقات مجرموں کو نگرانی سے بچنے کا موقع فراہم کرتا تھا۔
دوسری جانب پرائیویسی تنظیم “بگ برادر واچ” نے اس فیصلے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن نوجوان صارفین کی ذاتی معلومات کے تحفظ کا اہم ذریعہ تھی۔
رپورٹس کے مطابق میٹا نے اس تبدیلی کا باضابطہ اعلان نہیں کیا بلکہ مارچ 2026 میں خاموشی سے اپنی شرائط و ضوابط اپڈیٹ کیے، جن میں بتایا گیا کہ یہ فیچر 8 مئی کے بعد دستیاب نہیں ہوگا۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ بہت کم صارفین اس آپشن کو استعمال کر رہے تھے، اسی لیے اسے ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ تاہم بعض ماہرین کے مطابق یہ اقدام میٹا کی اے آئی اور ڈیٹا پالیسی میں وسیع تبدیلیوں کا حصہ بھی ہو سکتا ہے۔
سائبر سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کمپنیاں صارفین کے ڈیٹا اور آن لائن سرگرمیوں کو اشتہارات اور مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی تربیت کے لیے انتہائی قیمتی سمجھتی ہیں۔
اگرچہ انسٹاگرام پہلے یہ وضاحت دے چکا ہے کہ ڈی ایمز کو اے آئی ٹریننگ کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا، لیکن ناقدین کا خیال ہے کہ مستقبل میں پرائیویسی سے متعلق خدشات مزید بڑھ سکتے ہیں۔