نئی دہلی: ہفتے میں صرف دو دن اسمارٹ فون بند رکھنا بظاہر ایک آسان فیصلہ لگتا ہے، لیکن ایک بھارتی ٹیکنالوجی شوقین کے تجربے نے ثابت کیا ہے کہ آج کی ڈیجیٹل دنیا میں اسمارٹ فون سے مکمل دوری اتنی آسان نہیں جتنی دکھائی دیتی ہے۔
بھارتی صارف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ وہ ہر جمعہ کی رات اپنا آئی فون بند کر دیتا تھا اور اتوار تک صرف ایک سادہ کی پیڈ فون استعمال کرتا تھا۔
انہوں نے لکھا کہ ابتدا میں یہ تبدیلی غیر معمولی محسوس ہوئی، لیکن کچھ ہی عرصے بعد اس کے مثبت اثرات نمایاں ہونا شروع ہو گئے۔ سوشل میڈیا، نوٹیفکیشنز اور مختلف موبائل ایپس سے دور رہنے کی وجہ سے انہیں کافی اضافی وقت ملنے لگا۔
صارف کے مطابق اس دوران انہوں نے دوبارہ کتابیں پڑھنا شروع کیں، اپنی بیٹی کے ساتھ زیادہ وقت گزارا اور اہل خانہ کے ساتھ معیاری لمحات میسر آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ کھانے کے دوران فون کی مداخلت ختم ہونے سے گھریلو گفتگو بہتر ہوئی اور ذہنی سکون میں بھی نمایاں اضافہ محسوس ہوا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس مختصر ڈیجیٹل وقفے کے باعث بے چینی میں کمی آئی، توجہ بہتر ہوئی اور ذہن پہلے سے زیادہ پرسکون محسوس ہونے لگا۔
تاہم اس تجربے نے اسمارٹ فون پر روزمرہ زندگی کے انحصار کو بھی نمایاں کر دیا۔ ان کے مطابق رابطوں کی فہرست سادہ فون میں منتقل کرنا آسان ثابت نہیں ہوا اور کئی اہم نمبرز درست طریقے سے منتقل نہیں ہو سکے۔
اس کے علاوہ نقشہ جات (Maps)، آن لائن کھانا منگوانے کی سہولت، ڈیجیٹل ادائیگیاں اور دیگر ضروری موبائل ایپس کی عدم دستیابی نے بھی روزمرہ کے معمولات کو متاثر کیا۔ بعض مواقع پر انہیں سفر اور دیگر ضروری کاموں کے لیے اپنی اہلیہ کا اسمارٹ فون استعمال کرنا پڑا۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ ایک ٹیکنالوجی سے وابستہ شخص کے لیے ہوٹلوں میں ادائیگی، بینک کارڈز، خصوصی آفرز اور موبائل ایپس تک رسائی نہ ہونا ایک مشکل تجربہ تھا۔
ماہرین کے مطابق ڈیجیٹل ڈیٹاکس (Digital Detox) ذہنی صحت، توجہ اور خاندانی تعلقات بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے، لیکن موجودہ دور میں اسمارٹ فون صرف رابطے کا ذریعہ نہیں بلکہ بینکنگ، سفر، خریداری، ادائیگیوں اور دیگر روزمرہ ضروریات کا بنیادی حصہ بن چکا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مکمل طور پر اسمارٹ فون چھوڑنے کے بجائے روزانہ یا ہفتہ وار محدود وقت کے لیے ڈیجیٹل وقفہ اختیار کرنا زیادہ عملی اور مؤثر حکمت عملی ثابت ہو سکتی ہے۔