بیجنگ: چین کے مختلف شہروں میں انسان نما روبوٹس کو سڑکوں پر بھیک مانگتے ہوئے دکھانے والی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہیں، جس کے بعد مصنوعی ذہانت (AI) اور روبوٹکس کے مستقبل پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق بیجنگ، چینگڈو اور فوزو سمیت کئی شہروں میں جدید ہیومنائیڈ روبوٹس عوامی مقامات پر ایسے انداز میں بیٹھے دکھائی دیے جیسے وہ بھیک مانگ رہے ہوں۔
روبوٹس کے سامنے مختلف پیغامات رکھے گئے تھے، جن میں "براہِ کرم میرا بجلی کا بل ادا کر دیں" اور "میرے پاس فون چارج کرنے کے لیے پیسے نہیں ہیں" جیسے جملے درج تھے۔ بعض مقامات پر آن لائن ادائیگی کے لیے کیو آر کوڈز بھی رکھے گئے تھے۔
رپورٹس کے مطابق ان روبوٹس کو جان بوجھ کر انسانی بھکاریوں کی طرح جھکی ہوئی حالت میں بٹھایا گیا تھا تاکہ وہ زیادہ حقیقت پسند دکھائی دیں۔ کچھ روبوٹس گھٹنوں کے بل بیٹھے تھے جبکہ کچھ اپنے ہینڈلرز کے سامنے سر جھکائے ہوئے نظر آئے۔
ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین کی آرا تقسیم ہوگئیں۔ بعض افراد نے اسے مصنوعی ذہانت کے بڑھتے اثر و رسوخ کی علامت قرار دیا، جبکہ کئی صارفین نے تصاویر اور ویڈیوز کی حقیقت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ ممکنہ طور پر تشہیری مہم، آرٹ انسٹالیشن یا سوشل میڈیا توجہ حاصل کرنے کی کوشش بھی ہو سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جن ہیومنائیڈ روبوٹس کی ویڈیوز سامنے آئی ہیں، ان میں Unitree G1 اور Unitree H2 جیسے جدید ماڈلز سے مشابہت دیکھی جا سکتی ہے، جن کی قیمت ہزاروں ڈالر ہوتی ہے۔ اس لیے انہیں حقیقی معنوں میں بھیک مانگنے کے لیے استعمال کرنا معاشی لحاظ سے غیر منطقی دکھائی دیتا ہے۔
ٹیکنالوجی تجزیہ کاروں کے مطابق زیادہ امکان یہی ہے کہ یہ مناظر کسی تخلیقی یا فنی منصوبے، مارکیٹنگ مہم یا سماجی تجربے کا حصہ ہوں، جس کا مقصد لوگوں کو مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور انسانی معاشرے کے بدلتے تعلق پر غور کرنے کی دعوت دینا ہو۔
اگرچہ ان ویڈیوز نے دنیا بھر میں توجہ حاصل کی ہے، تاہم اب تک چینی حکام یا روبوٹ بنانے والی کمپنیوں کی جانب سے اس بارے میں کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی ہے۔