امریکی عدالت میں اوپن اے آئی کے شریک بانی گریگ بروک مین کو ایلون مسک کی جانب سے دائر کیے گئے ہائی پروفائل مقدمے کے دوران سخت سوالات اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑا، جس میں کمپنی کی ملکیت اور اس کے مالی ڈھانچے پر سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔
مقدمے میں ایلون مسک کے وکلاء نے مؤقف اختیار کیا کہ اوپن اے آئی کے بانیان نے ابتدائی طور پر تنظیم کے فلاحی مقصد کو نظر انداز کرتے ہوئے اسے ایک منافع بخش ٹیکنالوجی کمپنی میں تبدیل کیا، جس کی مالیت اب سینکڑوں ارب ڈالرز تک پہنچ چکی ہے۔
عدالتی کارروائی کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ گریگ بروک مین کے پاس اوپن اے آئی میں تقریباً 30 ارب ڈالر مالیت کا حصہ ہے، حالانکہ انہوں نے کمپنی میں کوئی مالی سرمایہ کاری نہیں کی تھی، جس پر قانونی ٹیم نے سوالات اٹھائے۔
مقدمے کے مطابق ایلون مسک، جو کبھی اوپن اے آئی کے ابتدائی معاونین میں شامل تھے، اب کمپنی کو دوبارہ غیر منافع بخش ادارے کی شکل میں لانے کے لیے قانونی جنگ لڑ رہے ہیں، جبکہ اوپن اے آئی کی موجودہ قیادت اس مؤقف کو مسترد کرتی ہے۔
گریگ بروک مین نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ مصنوعی ذہانت انسانی تاریخ کی سب سے بڑی تکنیکی تبدیلی ہے اور کمپنی اب بھی اپنے ابتدائی فلاحی مشن کے اصولوں پر قائم ہے، جبکہ اوپن اے آئی کی غیر منافع بخش شاخ کو اب بھی اربوں ڈالر کی معاونت حاصل ہے۔
کیس کے دوران یہ انکشاف بھی ہوا کہ ایلون مسک نے ماضی میں کمپنی کی حمایت کے لیے خطیر سرمایہ فراہم کیا تھا، تاہم بعد میں وہ اوپن اے آئی سے الگ ہو گئے اور اپنی نئی اے آئی کمپنی “xAI” قائم کی۔
عدالت میں جاری اس مقدمے کو مصنوعی ذہانت کی عالمی دوڑ کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، جس کا فیصلہ نہ صرف اوپن اے آئی بلکہ پوری ٹیکنالوجی انڈسٹری کے ڈھانچے کو متاثر کر سکتا ہے۔