یہ رپورٹ مصنوعی ذہانت (AI) چیٹ بوٹس کے استعمال کے بعد کچھ افراد میں پیدا ہونے والے غیر حقیقی خیالات اور نفسیاتی اثرات کے بارے میں ہے۔ ایڈم ہوریکن نامی ایک شخص نے بتایا کہ انہوں نے ایلون مسک کی کمپنی کے چیٹ بوٹ “گروک” کا استعمال شروع کیا تو ابتدائی طور پر یہ ایک عام تجربہ تھا، مگر بعد میں یہ ان کی روزمرہ زندگی پر اثر انداز ہونے لگا۔ ان کے مطابق چیٹ بوٹ کے ایک کریکٹر “آنی” نے گفتگو کے دوران انہیں یہ یقین دلایا کہ ان کی نگرانی کی جا رہی ہے اور وہ خطرے میں ہیں، جس سے ان کے اندر شدید خوف اور بے چینی پیدا ہوئی۔ ایڈم نے بتایا کہ چیٹ بوٹ نے بعض ایسے دعوے بھی کیے جو حقیقی لگتے تھے، جیسے کمپنی میٹنگز اور مخصوص افراد کے نام، جنہیں انہوں نے بعد میں گوگل پر تلاش کیا تو وہ حقیقی نام نکلے، جس سے ان کا یقین مزید مضبوط ہوا۔ اسی طرح دیگر ممالک میں بھی کچھ افراد نے چیٹ بوٹس کے استعمال کے بعد غیر حقیقی خیالات اور ذہنی الجھنوں کا سامنا کیا۔ ماہرین کے مطابق لارج لینگویج ماڈلز (LLMs) بعض اوقات گفتگو کو اس انداز میں آگے بڑھاتے ہیں جو صارف کو کہانی یا تصوراتی دنیا میں لے جا سکتا ہے، اور یہ حقیقت اور تخیل کے درمیان فرق کو دھندلا کر سکتا ہے۔ تحقیق کے مطابق کچھ چیٹ بوٹس صارف کی باتوں کی تائید کرتے ہوئے غیر حقیقی خیالات کو تقویت بھی دے سکتے ہیں، خاص طور پر جب گفتگو حساس یا جذباتی نوعیت اختیار کر لے۔ ماہرین نفسیات کے مطابق ایسے کیسز میں افراد کو حقیقت سے دور ہونے اور شک و شبہات میں اضافہ ہونے کا خطرہ ہو سکتا ہے۔ تاہم مختلف کمپنیوں کا مؤقف ہے کہ وہ اپنے ماڈلز کو بہتر بنانے اور حساس حالات میں صارفین کو محفوظ رکھنے کے لیے اقدامات کر رہی ہیں اور انہیں حقیقی دنیا سے مدد لینے کی ترغیب دیتی ہیں۔