وزیر مملکت اور پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے کہا ہے کہ موجودہ دور میں صرف روایتی تعلیم حاصل کرنا کامیابی کے لیے کافی نہیں، بلکہ نوجوانوں اور فری لانسرز کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ساتھ عملی مہارتیں سیکھنا ضروری ہو چکا ہے۔
انہوں نے اے آئی کے حوالے سے فری لانسرز اور نوجوانوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اس دور میں صرف پڑھائی پر انحصار ناکافی ہے، جبکہ اے آئی ٹولز کے ساتھ عملی کام کرنا ہی مستقبل میں کامیابی کی اصل کنجی ہے۔
بلال بن ثاقب کے مطابق ڈیجیٹل اثاثہ جات مستقبل کی معیشت میں مرکزی کردار ادا کریں گے، اور حکومت اس جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کے لیے مؤثر حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ڈیجیٹل معیشت کے فروغ اور شفاف مالیاتی نظام کے قیام کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے تاکہ پاکستان عالمی ڈیجیٹل معیشت کے ساتھ ہم آہنگ ہو سکے۔
وزیر مملکت نے مزید بتایا کہ اے آئی ایجنٹس پر مبنی ایک نیا ورک ماڈل تیار کیا گیا ہے، جس میں خودکار نظام کام کی رفتار اور طریقہ کار کو تیزی سے تبدیل کر رہا ہے۔
ان کے مطابق اس ماڈل میں اے آئی ایجنٹس کی ٹیم سی ای او، انجینئر اور ڈیزائنر جیسے کرداروں پر مشتمل ہوتی ہے، جبکہ فیصلہ سازی کا اختیار بدستور انسان کے پاس رہتا ہے۔
بلال بن ثاقب نے اس بات پر زور دیا کہ مستقبل کی معیشت میں وہی افراد کامیاب ہوں گے جو اے آئی کے ساتھ کام کرنے کی صلاحیت پیدا کریں گے اور خود کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالیں گے۔
ادھر دیگر سیاسی و ملکی امور سے متعلق مختلف بیانات اور پیش رفت بھی جاری ہیں، تاہم اس موقع پر حکومت کی توجہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور اے آئی کے فروغ پر مرکوز ہے۔