تاریخ کا عظیم ترین مسلمان سیاح: ابن بطوطہ کی جہاں گردی
تاریخِ انسانی میں سفر اور سیاحت کی بات کی جائے تو شاید ہی کوئی نام "ابن بطوطہ" جتنا وقیع اور مشہور ہو۔ قرونِ وسطیٰ کے اس عظیم مسلمان سیاح نے اس دور میں دنیا کا کونا کونا چھان مارا جب سفر کرنا آج کی طرح آسان نہیں تھا، بلکہ قدم قدم پر جان کا خطرہ، طویل مسافتیں اور نامساعد حالات مسافروں کے منتظر ہوتے تھے۔
اہم تاریخی حقائق ایک نظر میں
- پیدائش: 17 رجب 703 ہجری (1304ء)، طنجہ (شمالی افریقہ)
- سفر کا آغاز: 21 سال کی عمر میں (725 ہجری)
- سیاحت کا کل دورانیہ: تقریباً 30 سال
- طے کردہ فاصلہ: 75,000 میل (تقریباً 120,000 کلومیٹر)
- وفات: 779 ہجری (1377ء)
سیاحت کا آغاز: فریضہ حج سے دنیا کی دریافت تک
ابن بطوطہ کی سیاحت کا آغاز کسی مہم جوئی کے ارادے سے نہیں بلکہ ایک خالص مذہبی فریضے یعنی "حج" کی ادائیگی کے لیے ہوا تھا۔ 725 ہجری میں محض 21 برس کی عمر میں وہ اپنے آبائی شہر طنجہ (موجودہ مراکش) سے نکلے۔ لیکن یہ سفر صرف مکہ تک محدود نہ رہا؛ ان کے اندر چھپے سیاح نے انہیں مصر، حجاز، ترکستان اور خراسان کے طویل اور کٹھن راستوں پر ڈال دیا۔
ہندوستان میں قیام اور شاہی دربار تک رسائی
مسلسل سفر کرتے ہوئے 734 ہجری میں وہ خشکی کے راستے ہندوستان وارد ہوئے۔ یہ وہ دور تھا جب ہندوستان پر سلطان محمد بن تغلق کی حکمرانی تھی۔ سلطان ان کی علمیت اور جہاندیدہ شخصیت سے بے حد متاثر ہوا، ان کا شاندار استقبال کیا اور انہیں دہلی کا قاضی (چیف جج) مقرر کر دیا۔ ہندوستان میں ان کا قیام تقریباً 8 سے 10 سال تک محیط رہا، جو ان کی زندگی کا ایک نہایت مستحکم اور بااثر دور تھا۔
چین کا سفر اور مشرقِ وسطیٰ کی سیاحت
ہندوستان سے ان کا سفر رکا نہیں، بلکہ سلطان کی طرف سے ایک سفارتی وفد کے ہمراہ انہیں چین بھیجا گیا۔ چین کی سیاحت کے بعد واپسی پر انہوں نے مشرقی انڈیز (جزائر شرق ہند)، سوماترا، عراق، شام اور فلسطین کی خاک چھانی۔ اسی دوران انہوں نے اپنی زندگی کا چوتھا حج ادا کیا۔ تقریباً ایک چوتھائی صدی پر محیط اس طویل مسافت کے بعد انہیں اپنے وطن کی یاد ستانے لگی اور 750 ہجری میں براستہ مصر، تیونس اور الجزائر وہ واپس اپنے گھر طنجہ پہنچے۔
آخری مہمات اور عظیم شاہکار "سفرنامہ ابن بطوطہ"
گھر واپسی کے بعد بھی ان کے قدم نہ رکے۔ بمشکل 5 یا 6 سال بعد وہ دوبارہ نکل کھڑے ہوئے، اس بار ان کی منزل یورپ (اندلس/اسپین) تھی۔ وہاں سے واپسی پر انہوں نے افریقہ کے صحراؤں کا رخ کیا اور 754 ہجری میں ٹمبکٹو (Timbuktu) جا پہنچے۔
ان تمام مہمات کے اختتام پر، انہوں نے اپنی 30 سالہ یادداشتوں، مشاہدات، اور تجربات کو ایک کتابی شکل دینے کا فیصلہ کیا۔ 756 ہجری میں انہوں نے اپنا شاہکار مکمل کیا جسے آج دنیا "سفرنامہ ابن بطوطہ" (الرحلۃ) کے نام سے جانتی ہے۔ یہ کتاب چودہویں صدی کی دنیا کی تاریخ، جغرافیہ، ثقافت اور سیاسی حالات کا سب سے مستند اور دلچسپ حوالہ مانی جاتی ہے۔
یہ عظیم سیاح، جس کے قدموں نے دنیا کا ایک بڑا حصہ ناپ لیا تھا، بالآخر 779 ہجری بمطابق 1377ء میں اس جہانِ فانی سے کوچ کر گیا۔ لیکن ان کا لکھا ہوا سفرنامہ آج بھی انہیں تاریخ کے صفحات میں زندہ رکھے ہوئے ہے۔