Ad Blocker Detected

We rely on ads to keep our content free. Please whitelist this site in your ad blocker, then refresh to continue reading.

How to whitelist this site

  1. Click your ad blocker icon in the browser toolbar.
  2. Find "Whitelist this site" or "Disable on this page".
  3. Click the button below and we'll verify automatically.
⏳ Verifying, please wait…
❌ Ad blocker still active. Please whitelist this site and try again.
✅ All good! Reloading…
|
اردوپیور NEWS
لائیو
تازہ ترین
انگریزی بولنے کی پریکٹس کیسے کریں؟ | مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ، ڈیپ لرننگ، جنریٹو اے آئی، بڑے لسانی ماڈلز، معلوماتی معاون نظام اور خودکار عملی اے آئی میں فرق | روس میں ہٹلر کے نام سے پیزا آرڈر کرنے والے طالب علم کو 5 روز قید کی سزا | ہفتے میں دو دن اسمارٹ فون بند رکھنے کا حیران کن تجربہ، فوائد بھی سامنے آئے اور مشکلات بھی | چین میں انسان نما روبوٹس سڑکوں پر ’بھیک مانگتے‘ نظر آئے، ویڈیوز وائرل | فیفا ورلڈ کپ بخار: بنگلادیش میں ارجنٹائن کے رنگوں میں رنگی بھیڑ کی ویڈیو وائرل | جنوبی کوریا: مصنوعی ذہانت سے چلنے والی گڑیا بزرگ خاتون کی بہترین ساتھی بن گئی | نوجوان ڈیٹا ویژولائزیشن سیکھ کر پیسے کیسے کما سکتے ہیں؟ 6 ماہ کا عملی روڈ میپ | انگریزی بولنے کی پریکٹس کیسے کریں؟ | مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ، ڈیپ لرننگ، جنریٹو اے آئی، بڑے لسانی ماڈلز، معلوماتی معاون نظام اور خودکار عملی اے آئی میں فرق | روس میں ہٹلر کے نام سے پیزا آرڈر کرنے والے طالب علم کو 5 روز قید کی سزا | ہفتے میں دو دن اسمارٹ فون بند رکھنے کا حیران کن تجربہ، فوائد بھی سامنے آئے اور مشکلات بھی | چین میں انسان نما روبوٹس سڑکوں پر ’بھیک مانگتے‘ نظر آئے، ویڈیوز وائرل | فیفا ورلڈ کپ بخار: بنگلادیش میں ارجنٹائن کے رنگوں میں رنگی بھیڑ کی ویڈیو وائرل | جنوبی کوریا: مصنوعی ذہانت سے چلنے والی گڑیا بزرگ خاتون کی بہترین ساتھی بن گئی | نوجوان ڈیٹا ویژولائزیشن سیکھ کر پیسے کیسے کما سکتے ہیں؟ 6 ماہ کا عملی روڈ میپ |

کراچی میں منشیات کا بڑھتا ہوا خطرہ: ایک خاموش قاتل

کراچی میں آئس سمیت خطرناک منشیات کا بڑھتا ہوا استعمال نوجوانوں، خاندانوں اور معاشرے کے لیے سنگین خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ کارساز سانحہ نے ایک بار پھر اس خاموش تباہی کی طرف توجہ مبذول کروا دی ہے۔

Admin 19 Jun 2026 1 منٹ پڑھیں 121

کراچی کے علاقے کارساز میں ایک دلخراش واقعہ پیش آیا جس نے پورے شہر کو ہلا کر رکھ دیا۔ آمنہ، ایک محنتی اور قابل لڑکی جس کے والدین نے چپس اور پاپڑ بیچ کر اسے ایم بی اے کروایا تھا، اپنے والد کے ساتھ گھر جا رہی تھی۔ انہیں اندازہ نہیں تھا کہ وہ آج گھر نہیں، بلکہ موت کے منہ میں جا رہے ہیں۔ کارساز کی سروس روڈ پر ایک تیز رفتار لینڈ کروزر نے انہیں کچل دیا، جس کی ڈرائیور ایک 26 سالہ لڑکی، تناشا تھی۔ یہ جان کر حیرانی ہوتی ہے کہ تناشا نے اس حادثے کے بعد نہ صرف فرار ہونے کی کوشش نہیں کی بلکہ فخر سے مسکرا رہی تھی۔ آخر ایسا کیوں ہوا؟ اس کا جواب ہمیں ایک گہرے اور زیادہ سنگین مسئلے کی طرف لے جاتا ہے: منشیات کا بڑھتا ہوا استعمال، خاص طور پر آئس۔

آئس کیا ہے؟

آئس ایک انتہائی خطرناک اور نشہ آور کیمیکل ہے جو دماغ کے فیصلوں پر قابو پانے کی صلاحیت کو تباہ کر دیتا ہے۔ یہ شخص کو انتہائی متحرک، پرجوش، اور بے خوف بنا دیتا ہے۔ ڈوپامائن کی زیادہ مقدار خارج ہونے سے عارضی خوشی اور توانائی کا احساس ہوتا ہے، لیکن اس کے اثرات تباہ کن ہوتے ہیں۔ نیند غائب ہو جاتی ہے، بھوک مر جاتی ہے، اور انسان کا اپنے اعمال پر قابو ختم ہو جاتا ہے۔ تناشا کے کیس میں، یہ واضح ہے کہ وہ بھی اس زہر کا شکار تھی۔

آئس کی تاریخ اور اس کے خطرناک اثرات

آئس کی ایجاد اتفاقاً جاپان میں ہوئی تھی جب ایک سائنسدان ایفیڈرا نامی پودے پر تحقیق کر رہا تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران ہٹلر نے اسے اپنے فوجیوں کو دیا تاکہ وہ بغیر تھکے، بھوکے پیاسے لڑ سکیں، لیکن اس کا انجام تباہ کن تھا۔ جب نشے کا اثر ختم ہوتا، فوجی نفسیاتی اور جسمانی مسائل کا شکار ہو جاتے، نیند کے مسائل، دل کی دھڑکن بے قابو، جارحیت، اور ڈپریشن ان کا مقدر بن جاتے۔

پاکستان میں آئس کی آمد اور پھیلاؤ

پاکستان میں آئس کی آمد 2007 میں ہوئی اور ابتداء میں یہ صرف امیر طبقے کا نشہ تھا۔ لیکن 2015 کے قریب افغانستان میں ایفیڈرا پودے سے سستی آئس بننے لگی، جس سے اس کی قیمت میں نمایاں کمی آئی۔ وہ آئس جو 5000 روپے فی گرام بکتی تھی، اب 500 روپے میں دستیاب ہونے لگی۔ نتیجتاً، یہ نشہ مڈل کلاس اور غریب طبقے تک بھی پہنچ گیا۔ آج کل یونیورسٹیوں، ہوسٹلز، اور تقریبات میں اس کا استعمال عام ہو چکا ہے۔

نوجوان نسل کی بربادی

یہ نشہ نہ صرف تفریح کے لیے، بلکہ جاگنے، کام کرنے اور زیادہ توانائی کے لیے بھی استعمال ہو رہا ہے۔ ڈاکٹرز، انجینئرز، فری لانسرز، اور کال سینٹر ورکرز جو لمبی شفٹوں میں کام کرتے ہیں، اس کا شکار ہو رہے ہیں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ نشہ لوگوں کی زندگیاں، کیریئر، اور رشتے تباہ کر رہا ہے۔ بہت سے نوجوان جو کبھی ہونہار طلباء تھے، اب نشے کی وجہ سے ذہنی امراض (جیسے شیزوفرینیا) کا شکار ہو چکے ہیں اور معاشرے سے کٹ گئے ہیں۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کردار

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسداد منشیات فورس اور پولیس کے ہوتے ہوئے یہ نشہ اتنی آسانی سے کیسے دستیاب ہے؟ مقامی سطح پر منشیات کے اڈے کھلے عام کام کر رہے ہیں اور مافیا قانون سے بچ نکلتا ہے۔ لوگوں کا ماننا ہے کہ جب تک منشیات فروشوں کے خلاف سخت کارروائی نہیں ہوگی اور صرف نشئی افراد کو پکڑنے پر اکتفا کیا جائے گا، تب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

والدین اور معاشرے کا کردار

ڈپریشن اور ذہنی دباؤ اس نشے کی طرف راغب ہونے کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہیں۔ والدین اور بچوں کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ اور ٹیکنالوجی (گیجٹس) کا زیادہ استعمال بھی بچوں کو اس راستے پر ڈال سکتا ہے۔ والدین کو اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزارنے اور ان کے مسائل کو سمجھنے کی ضرورت ہے تاکہ انہیں منشیات کے جال سے بچایا جا سکے۔

آئس کا نشہ ہمارے معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔ کارساز کا واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ منشیات کا استعمال نہ صرف فرد بلکہ پورے معاشرے کے لیے کتنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ ہمیں بحیثیت معاشرہ اور ریاست، اس لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے ہوں گے، ورنہ ایسی مزید معصوم جانیں اس تباہی کا شکار ہوتی رہیں گی۔

شیئر کریں:

مزید پڑھیں

App

Learn English in Urdu

★★★★☆ (1M+ Downloads)

OPEN APP