کراچی کے علاقے کارساز میں ایک دلخراش واقعہ پیش آیا جس نے پورے شہر کو ہلا کر رکھ دیا۔ آمنہ، ایک محنتی اور قابل لڑکی جس کے والدین نے چپس اور پاپڑ بیچ کر اسے ایم بی اے کروایا تھا، اپنے والد کے ساتھ گھر جا رہی تھی۔ انہیں اندازہ نہیں تھا کہ وہ آج گھر نہیں، بلکہ موت کے منہ میں جا رہے ہیں۔ کارساز کی سروس روڈ پر ایک تیز رفتار لینڈ کروزر نے انہیں کچل دیا، جس کی ڈرائیور ایک 26 سالہ لڑکی، تناشا تھی۔ یہ جان کر حیرانی ہوتی ہے کہ تناشا نے اس حادثے کے بعد نہ صرف فرار ہونے کی کوشش نہیں کی بلکہ فخر سے مسکرا رہی تھی۔ آخر ایسا کیوں ہوا؟ اس کا جواب ہمیں ایک گہرے اور زیادہ سنگین مسئلے کی طرف لے جاتا ہے: منشیات کا بڑھتا ہوا استعمال، خاص طور پر آئس۔
آئس کیا ہے؟
آئس ایک انتہائی خطرناک اور نشہ آور کیمیکل ہے جو دماغ کے فیصلوں پر قابو پانے کی صلاحیت کو تباہ کر دیتا ہے۔ یہ شخص کو انتہائی متحرک، پرجوش، اور بے خوف بنا دیتا ہے۔ ڈوپامائن کی زیادہ مقدار خارج ہونے سے عارضی خوشی اور توانائی کا احساس ہوتا ہے، لیکن اس کے اثرات تباہ کن ہوتے ہیں۔ نیند غائب ہو جاتی ہے، بھوک مر جاتی ہے، اور انسان کا اپنے اعمال پر قابو ختم ہو جاتا ہے۔ تناشا کے کیس میں، یہ واضح ہے کہ وہ بھی اس زہر کا شکار تھی۔
آئس کی تاریخ اور اس کے خطرناک اثرات
آئس کی ایجاد اتفاقاً جاپان میں ہوئی تھی جب ایک سائنسدان ایفیڈرا نامی پودے پر تحقیق کر رہا تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران ہٹلر نے اسے اپنے فوجیوں کو دیا تاکہ وہ بغیر تھکے، بھوکے پیاسے لڑ سکیں، لیکن اس کا انجام تباہ کن تھا۔ جب نشے کا اثر ختم ہوتا، فوجی نفسیاتی اور جسمانی مسائل کا شکار ہو جاتے، نیند کے مسائل، دل کی دھڑکن بے قابو، جارحیت، اور ڈپریشن ان کا مقدر بن جاتے۔
پاکستان میں آئس کی آمد اور پھیلاؤ
پاکستان میں آئس کی آمد 2007 میں ہوئی اور ابتداء میں یہ صرف امیر طبقے کا نشہ تھا۔ لیکن 2015 کے قریب افغانستان میں ایفیڈرا پودے سے سستی آئس بننے لگی، جس سے اس کی قیمت میں نمایاں کمی آئی۔ وہ آئس جو 5000 روپے فی گرام بکتی تھی، اب 500 روپے میں دستیاب ہونے لگی۔ نتیجتاً، یہ نشہ مڈل کلاس اور غریب طبقے تک بھی پہنچ گیا۔ آج کل یونیورسٹیوں، ہوسٹلز، اور تقریبات میں اس کا استعمال عام ہو چکا ہے۔
نوجوان نسل کی بربادی
یہ نشہ نہ صرف تفریح کے لیے، بلکہ جاگنے، کام کرنے اور زیادہ توانائی کے لیے بھی استعمال ہو رہا ہے۔ ڈاکٹرز، انجینئرز، فری لانسرز، اور کال سینٹر ورکرز جو لمبی شفٹوں میں کام کرتے ہیں، اس کا شکار ہو رہے ہیں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ نشہ لوگوں کی زندگیاں، کیریئر، اور رشتے تباہ کر رہا ہے۔ بہت سے نوجوان جو کبھی ہونہار طلباء تھے، اب نشے کی وجہ سے ذہنی امراض (جیسے شیزوفرینیا) کا شکار ہو چکے ہیں اور معاشرے سے کٹ گئے ہیں۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کردار
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسداد منشیات فورس اور پولیس کے ہوتے ہوئے یہ نشہ اتنی آسانی سے کیسے دستیاب ہے؟ مقامی سطح پر منشیات کے اڈے کھلے عام کام کر رہے ہیں اور مافیا قانون سے بچ نکلتا ہے۔ لوگوں کا ماننا ہے کہ جب تک منشیات فروشوں کے خلاف سخت کارروائی نہیں ہوگی اور صرف نشئی افراد کو پکڑنے پر اکتفا کیا جائے گا، تب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔
والدین اور معاشرے کا کردار
ڈپریشن اور ذہنی دباؤ اس نشے کی طرف راغب ہونے کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہیں۔ والدین اور بچوں کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ اور ٹیکنالوجی (گیجٹس) کا زیادہ استعمال بھی بچوں کو اس راستے پر ڈال سکتا ہے۔ والدین کو اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزارنے اور ان کے مسائل کو سمجھنے کی ضرورت ہے تاکہ انہیں منشیات کے جال سے بچایا جا سکے۔
آئس کا نشہ ہمارے معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔ کارساز کا واقعہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ منشیات کا استعمال نہ صرف فرد بلکہ پورے معاشرے کے لیے کتنا خطرناک ہو سکتا ہے۔ ہمیں بحیثیت معاشرہ اور ریاست، اس لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے ہوں گے، ورنہ ایسی مزید معصوم جانیں اس تباہی کا شکار ہوتی رہیں گی۔