لکھنؤ کی گلیوں میں ایک ایسا فنکار آج بھی موجود ہے جو وقت کے بدلتے دھارے کے باوجود اپنے ہاتھ میں قلم، سامنے سیاہی اور دل میں الفاظ کی محبت لیے بیٹھا ہے۔ عمر 85 برس ہو چکی ہے، لیکن ان کے ہاتھوں کی روانی آج بھی ایسی ہے جیسے کوئی نوجوان فنکار پہلی بار اپنے فن کا اظہار کر رہا ہو۔
یہ کہانی ہے ایک ایسے خطاط کی، جنہوں نے صرف ایک عبارت ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘ کو ہزاروں مختلف انداز میں لکھ کر ایک منفرد مقام حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ان کے بنائے ہوئے ہر ڈیزائن میں ایک الگ سوچ، الگ ساخت اور الگ خوبصورتی ہے۔ ان کے مطابق کوئی بھی دو نمونے ایک دوسرے کی مکمل نقل نہیں ہیں۔
ایک لفظ، ہزاروں کہانیاں
خطاطی صرف خوبصورت لکھائی کا نام نہیں بلکہ صدیوں پرانی ایک تہذیبی روایت ہے۔ عربی اور فارسی رسم الخط میں ایک ہی لفظ کو مختلف زاویوں، تناسب اور اشکال کے ساتھ پیش کرنا ایک پیچیدہ فن سمجھا جاتا ہے۔
’’بسم اللہ‘‘ اسلامی دنیا میں سب سے زیادہ لکھی جانے والی عبارتوں میں سے ایک ہے۔ مختلف ادوار میں فنکاروں نے اسے:
- ثلث
- نسخ
- کوفی
- دیوانی
- نستعلیق
جیسے انداز میں پیش کیا۔
لیکن لکھنؤ کے اس فنکار نے ایک ہی عبارت کو مسلسل نئے تجربات کے ساتھ پیش کرنے کی کوشش کی۔
بچپن سے قلم تک کا سفر
ان کے مطابق خطاطی کا سفر ان کے لیے صرف روزگار نہیں بلکہ زندگی کا مقصد بن گیا۔
چھوٹی عمر میں ہی انہیں حروف کی بناوٹ، سطروں کے توازن اور قلم کی حرکت میں دلچسپی پیدا ہوئی۔
وہ گھنٹوں کاغذ پر مشق کرتے، ایک ہی حرف کو بار بار لکھتے تاکہ اس کی خوبصورتی کو سمجھ سکیں۔
خطاطی میں مہارت حاصل کرنے کے لیے صرف ہاتھ کا کنٹرول کافی نہیں ہوتا بلکہ آنکھ کو تناسب، فاصلے اور شکلوں کی خوبصورتی کو پہچاننا بھی سیکھنا پڑتا ہے۔
عالمی ریکارڈ کا دعویٰ
فنکار کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے ’’بسم اللہ‘‘ کے ہزاروں الگ الگ ڈیزائن تیار کیے، جنہیں ایک عالمی ریکارڈ کے طور پر تسلیم کیا گیا۔
ان کے مطابق یہ کام صرف تعداد کا نہیں بلکہ تخلیقی سوچ کا امتحان تھا۔
ایک ہی عبارت کو بار بار نئے انداز میں پیش کرنا ایسا ہی ہے جیسے ایک موسیقار ایک ہی دھن کو مختلف کیفیتوں میں پیش کرے۔
ہر ڈیزائن میں:
- حروف کی ترتیب
- لائنوں کا بہاؤ
- دائرے اور زاویے
- خالی جگہوں کا استعمال
ایک نیا تجربہ بن جاتا ہے۔
ڈیجیٹل دور میں قدیم فن کا امتحان
آج کے دور میں کمپیوٹر فونٹس، موبائل ایپس اور ڈیجیٹل ڈیزائن نے لکھائی کے انداز کو بدل دیا ہے۔
چند سیکنڈ میں ہزاروں فونٹس تیار ہو جاتے ہیں، لوگ خوبصورت تحریر کے لیے ہاتھ سے لکھی خطاطی کے بجائے ڈیجیٹل ذرائع استعمال کرتے ہیں۔
اس تبدیلی نے روایتی خطاطوں کے لیے مشکلات پیدا کی ہیں۔
وہ فن جس میں برسوں کی محنت، استاد شاگرد کی روایت اور ہاتھ کی مہارت شامل تھی، اب تیزی سے اسکرین پر منتقل ہو رہا ہے۔
قلم اور سیاہی سے محبت
لیکن 85 سالہ خطاط کے لیے یہ صرف ایک پیشہ نہیں۔
ان کے لیے قلم پکڑنا ایک عبادت، ایک روایت اور ایک جذباتی تعلق ہے۔
وہ سمجھتے ہیں کہ مشین کبھی بھی انسانی ہاتھ کے لمس، غلطی اور احساس کی جگہ نہیں لے سکتی۔
ایک ہاتھ سے لکھی ہوئی تحریر میں فنکار کی شخصیت چھپی ہوتی ہے۔
ہر لکیر کے پیچھے ایک لمحہ، ایک سوچ اور ایک کیفیت موجود ہوتی ہے۔
نئی نسل کے لیے پیغام
ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ زمانہ بدل گیا ہے، لیکن خطاطی ختم نہیں ہونی چاہیے۔
نئی نسل کو چاہیے کہ جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ اپنے قدیم فنون کو بھی زندہ رکھے۔
کیونکہ کچھ چیزیں صرف خوبصورتی نہیں ہوتیں، بلکہ وہ تاریخ، ثقافت اور انسان کے تخلیقی سفر کی نشانی ہوتی ہیں۔
لکھنؤ کا یہ بزرگ خطاط آج بھی اپنے قلم سے یہی ثابت کر رہا ہے کہ بعض فن وقت کے ساتھ پرانے نہیں ہوتے، بلکہ اور بھی قیمتی بن جاتے ہیں۔