اسلام آباد: حکومت نے فنانس بل 2026-27 میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے حاصل ہونے والی آمدن پر ودہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ اس مقصد کے لیے انکم ٹیکس آرڈیننس میں نیا سیکشن 154B شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
فنانس بل کے مطابق تمام بینکنگ اور نان بینکنگ مالیاتی ادارے سوشل میڈیا سے حاصل ہونے والی رقوم اکاؤنٹس میں منتقل ہوتے ہی مقررہ شرح کے مطابق ٹیکس کاٹنے کے پابند ہوں گے۔ یہ اقدام ڈیجیٹل کنٹینٹ کریئیٹرز، یوٹیوبرز، فری لانسرز اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی آمدن کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
تجویز کے تحت بیرون ملک سے بینکنگ چینلز کے ذریعے موصول ہونے والی رقوم، آن لائن پیمنٹ سروس پرووائیڈرز اور ڈیجیٹل فنانشل پلیٹ فارمز کے ذریعے آنے والی ادائیگیوں پر بھی ودہولڈنگ ٹیکس لاگو ہوگا۔
فنانس بل میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے رہائشی افراد کے لیے یہ کٹوتی کم از کم ٹیکس تصور کی جائے گی، جبکہ غیر رہائشی پاکستانیوں اور بیرون ملک مقیم افراد کے لیے یہی ٹیکس حتمی (فائنل) ٹیکس کی حیثیت رکھے گا۔
ایف بی آر کو اس مجوزہ قانون کے نفاذ، نگرانی اور رپورٹنگ کے لیے باقاعدہ قواعد و ضوابط مرتب کرنے اور نوٹیفائی کرنے کا اختیار دیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق اس اقدام سے ڈیجیٹل معیشت سے حاصل ہونے والی آمدن کی دستاویزی شکل میں نگرانی ممکن ہوگی، تاہم کنٹینٹ کریئیٹرز اور آن لائن کاروبار سے وابستہ افراد کی جانب سے اس تجویز پر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔