یہ دریافت تقریباً 500 کلومیٹر چوڑے ایک آسمانی جسم (612533) 2002 XV93 کے مطالعے کے دوران سامنے آئی، جو سورج سے زمین کے مقابلے میں تقریباً 40 گنا زیادہ فاصلے پر موجود ہے، یعنی تقریباً 6 ارب کلومیٹر دور۔
تحقیق کے مطابق جب یہ دور دراز جسم جنوری 2024 میں ایک ستارے کے سامنے سے گزرا تو ستارے کی روشنی فوری طور پر واپس ظاہر نہیں ہوئی، جس سے ماہرین نے اندازہ لگایا کہ کسی ہلکی فضا نے روشنی کو متاثر کیاہے۔
سائنسی جریدے نیچر ایسٹرونومی میں شائع تحقیق کے مطابق اگر یہ مشاہدات درست ثابت ہوتے ہیں تو اس دنیا کی فضا زمین کی نسبت لاکھوں گنا زیادہ پتلی ہو سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اب تک صرف پلوٹو ہی نیپچون کے بعد ایسا آسمانی جسم سمجھا جاتا تھا جس کے پاس فضا موجود ہے، تاہم اس نئی دریافت نے اس تصور کو بھی چیلنج کر دیا ہے کہ بیرونی نظامِ شمسی کے چھوٹے برفانی اجسام مکمل طور پر غیر فعال اور بے تبدیلی ہوتے ہیں۔
تحقیق کے مرکزی مصنف کو آرماٹسو کے مطابق ممکن ہے کہ یہ فضا زیرِ زمین برفانی آتش فشانوں سے خارج ہونے والی گیسوں یا کسی دومکیت کے ٹکراؤ کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہو، جو وقت کے ساتھ کم بھی ہو سکتی ہے۔
تاہم بعض ماہرین اس نتیجے پر محتاط رائے رکھتے ہیں۔ ہسپانوی ماہر فلکیات ہوزے لوئیس اورٹیز کے مطابق یہ ابھی واضح نہیں کہ واقعی یہ فضا ہے یا ممکن ہے کہ یہ کسی حلقے (Ring) کا اثر ہو، اس لیے مزید مشاہدات ضروری ہیں۔
ماہرین نے مزید کہا ہے کہ جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ سمیت جدید آلات کے ذریعے مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ اس پراسرار دنیا کی حقیقت واضح ہو سکے۔