پاکستان میں جدید فائیو جی انٹرنیٹ سروسز کے باقاعدہ آغاز کی تیاریاں تیزی سے جاری ہیں اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ملک بھر میں یہ سہولت اگست کے وسط تک فراہم کر دی جائے گی۔
تاہم اس منصوبے کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے جن میں مہنگے 5G موبائل فونز کی محدود دستیابی اور بھاری ٹیکسز نمایاں رکاوٹیں ہیں۔
ٹیلی کام کمپنیوں نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ عوام کو سہولت فراہم کرنے کے لیے قسطوں پر موبائل فونز دینے کی اسکیم متعارف کرائی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ صارفین 5G سروس سے فائدہ اٹھا سکیں۔
اس مجوزہ منصوبے میں یہ شرط بھی شامل کی گئی ہے کہ قرض نادہندگان کو کسی بھی کمپنی کی جانب سے سم کارڈ جاری نہ کیا جائے۔
ذرائع کے مطابق آئی فون صارفین فوری طور پر 5G سروس سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے کیونکہ ایپل کی جانب سے پاکستان میں 2027 تک 5G سپورٹ کی اجازت متوقع ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ بھاری درآمدی ٹیکسز کے باعث ملک میں آئی فون کی مارکیٹ پہلے ہی محدود ہے، جبکہ دیگر کمپنیوں جیسے سام سنگ کے 5G فونز نسبتاً زیادہ دستیاب ہیں۔
رواں سال مارچ میں 5G اسپیکٹرم کی نیلامی سے حکومت نے 507 ملین ڈالر حاصل کیے، جس میں مختلف ٹیلی کام کمپنیوں نے فریکوئنسی بینڈز حاصل کیے۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے مطابق مجموعی طور پر 480 میگا ہرٹز اسپیکٹرم فروخت کیا گیا، جس میں جاز سب سے بڑا خریدار رہا۔
ٹیلی کام کمپنیوں کا کہنا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں 5G سروس محدود علاقوں میں فراہم کی جائے گی، جسے بعد میں ملک بھر تک وسعت دی جائے گی۔
جاز حکام کے مطابق ابتدائی طور پر تقریباً 1000 سائٹس پر سروس شروع کی جائے گی، جسے سال کے آخر تک 2500 سائٹس تک بڑھانے کا منصوبہ ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں انٹرنیٹ استعمال کی شرح خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کم ہے، تاہم سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث آئندہ برسوں میں اس میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
ٹیلی کام سیکٹر نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بھاری ٹیکسز میں کمی کی جائے تاکہ "ڈیجیٹل پاکستان" کے وژن کو حقیقت بنایا جا سکے، کیونکہ موجودہ ٹیکس بوجھ ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ سمجھا جا رہا ہے۔