چین میں ایک اہم عدالتی فیصلے کے تحت کمپنیوں کی جانب سے آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) کو جواز بنا کر ملازمین کو نوکری سے فارغ کرنے کے عمل کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا ہے۔
ہانگژو کی ایک عدالت نے ایک مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ صرف اے آئی کے استعمال کو بنیاد بنا کر ملازمین کو برطرف نہیں کیا جا سکتا۔
ہانگژو کو چین کا ایک اہم اے آئی حب بھی سمجھا جاتا ہے، جہاں ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت سے متعلق بڑی کمپنیاں سرگرم ہیں۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کمپنیوں کو ملازمین کی برطرفی صرف واضح اور قانونی وجوہات کی بنیاد پر کرنے کی اجازت ہوگی، جبکہ اے آئی کی وجہ سے برطرفی یا تنخواہوں میں کمی قابل قبول نہیں۔
یہ کیس ایک ٹیکنالوجی کمپنی کے سابق ملازم کی جانب سے دائر کیا گیا تھا، جسے بغیر مناسب معاوضہ دیے ملازمت سے فارغ کر دیا گیا تھا۔
مقدمے میں ان دیگر ورکرز کے حالات کا بھی حوالہ دیا گیا جنہیں اے آئی کے بڑھتے استعمال کے باعث نوکریوں سے محروم ہونا پڑا۔
وکیلِ صفائی کے مطابق یہ مقدمہ اے آئی کے دور میں لیبر رائٹس کے حوالے سے ایک اہم نظیر ہے، اور اس سے کمپنیوں کی سماجی ذمہ داری مزید واضح ہوتی ہے۔
عدالت نے اپنے ریمارکس میں یہ بھی کہا کہ اگرچہ ٹیکنالوجی کی ترقی کو روکا نہیں جا سکتا، تاہم اسے قانونی اور انسانی اصولوں کے دائرے میں رہ کر اپنانا ضروری ہے۔
مزید کہا گیا کہ ملازمین کو بھی چاہیے کہ وہ بدلتے ہوئے ٹیکنالوجی کے دور کے مطابق اپنی مہارتوں کو اپ ڈیٹ کریں تاکہ وہ مارکیٹ میں اپنی جگہ برقرار رکھ سکیں۔