پاکستان میں سوشل میڈیا پر اس وقت ایک بحث جاری ہے جس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ملک میں بجلی کے بحران اور لوڈ شیڈنگ کا تعلق موبائل فون چارجرز سے ہو سکتا ہے۔ یہ بحث اس وقت شروع ہوئی جب ایک اینکر پرسن نے پوڈکاسٹ میں دعویٰ کیا کہ پاکستان میں کروڑوں موبائل فونز کی چارجنگ بجلی کے استعمال میں نمایاں اضافہ کرتی ہے اور چارجر ساکٹ میں لگا رہنے سے بھی بجلی ضائع ہوتی ہے۔ اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف آراء سامنے آئیں، کچھ صارفین نے اسے درست قرار دیا جبکہ کئی نے اسے غیر سائنسی اور مبالغہ آرائی قرار دیا۔ اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ موبائل فون چارجرز یا کم توانائی استعمال کرنے والے آلات کا مجموعی بجلی کے نظام پر اثر نہ ہونے کے برابر ہے اور یہ بجلی کے بڑے بحران کی وجہ نہیں بن سکتے۔ ماہرین کے مطابق اصل بوجھ زیادہ بجلی استعمال کرنے والے آلات جیسے ایئر کنڈیشنرز، ہیٹرز اور دیگر ہائی پاور اپلائنسز ہیں جو مجموعی لوڈ میں نمایاں اضافہ کرتے ہیں۔ مختلف تحقیقی رپورٹس کے مطابق اسٹینڈ بائی موڈ میں موجود الیکٹرانک ڈیوائسز تھوڑی بہت بجلی استعمال کرتی ہیں جنہیں بعض اوقات "ویمپائر ڈیوائسز" بھی کہا جاتا ہے، تاہم یہ استعمال گھریلو یا قومی سطح پر بہت کم اثر رکھتا ہے۔ انجینیئرز کے مطابق اگر لاکھوں موبائل چارجرز بیک وقت استعمال ہوں بھی تو ان کا مجموعی لوڈ چند میگا واٹ تک محدود رہتا ہے جو پورے پاور سسٹم کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔ ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ بجلی کے بحران کی بڑی وجوہات میں زیادہ توانائی استعمال کرنے والے آلات اور انفراسٹرکچر کے مسائل شامل ہیں، نہ کہ موبائل چارجرز۔