کیمبرج امتحانی پرچوں کے مبینہ لیک پر بڑا ایکشن، این سی سی آئی اے کو تحقیقات کی ہدایت
پاکستان میں کیمبرج امتحانی پرچوں کے مبینہ لیک معاملے پر حکومت نے سخت نوٹس لیتے ہوئے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کو فوری تحقیقات کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
کیمبرج پیپر لیک تحقیقات شروع
وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر تعلیم خالد مقبول صدیقی کی ہدایات پر سیکریٹری داخلہ کی زیرِ صدارت اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر اور کیمبرج حکام نے بھی شرکت کی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کیمبرج امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے کی تحقیقات این سی سی آئی اے اور کیمبرج کے باہمی تعاون سے کی جائیں گی تاکہ ذمہ دار عناصر کا تعین کیا جا سکے۔
کون سا کیمبرج پیپر لیک ہوا؟
کیمبرج کی جانب سے جاری بیان کے مطابق 12 مئی کو ہونے والا کیمبرج انٹرنیشنل اے ایس لیول میتھمیٹکس پیپر 52 (9709) انتظامی زون 3 اور 4 میں مقررہ وقت سے پہلے شیئر کیا گیا، جو امتحانی ضابطوں کی خلاف ورزی ہے۔
برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر نے اس واقعے کو "پیپر چوری" قرار دیتے ہوئے مزید امتحانی پرچوں کے مبینہ لیک ہونے پر بھی تشویش ظاہر کی۔
طلبہ اور والدین میں تشویش
کیمبرج امتحانات میں شریک طلبہ اور والدین کی جانب سے معاملے پر شدید تشویش پائی جا رہی ہے جبکہ سوشل میڈیا پر بھی امتحانی شفافیت سے متعلق سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
حکام کے مطابق کیمبرج جلد اس معاملے پر اپنا باضابطہ مؤقف جاری کرے گا۔
مختصر خلاصہ
کیمبرج امتحانی پرچوں کے مبینہ لیک کے بعد حکومت نے این سی سی آئی اے کو تحقیقات کا حکم دے دیا ہے جبکہ کیمبرج حکام کے ساتھ مشترکہ تحقیقات کے ذریعے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا۔