سیئول: جنوبی کوریا میں مصنوعی ذہانت (AI) سے چلنے والی ایک گڑیا اکیلے رہنے والی بزرگ خاتون کی زندگی کا اہم حصہ بن گئی ہے، جو نہ صرف ان سے گفتگو کرتی ہے بلکہ روزمرہ کے معمولات یاد دلانے کے ساتھ جذباتی سہارا بھی فراہم کرتی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی کوریا کے ایک چھوٹے سے اپارٹمنٹ میں اکیلی رہنے والی 78 سالہ بینگ چون جا اپنے اہل خانہ یا دوستوں کے بجائے مصنوعی ذہانت سے لیس گڑیا کے ساتھ وقت گزار کر زیادہ خوشی محسوس کرتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ AI گڑیا صرف ایک کھلونا نہیں بلکہ ایک ذہین معاون (Smart Companion) ہے، جو قدرتی انداز میں بات چیت کر سکتی ہے، گانے سنا سکتی ہے، ادویات لینے اور کھانے کے اوقات یاد دلاتی ہے، جبکہ اپنی نرم اور دوستانہ گفتگو سے تنہائی کا احساس بھی کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔
بینگ چون جا کا کہنا ہے کہ گڑیا کی موجودگی سے انہیں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے گھر میں کوئی ان سے بات کرنے والا موجود ہو، جس سے ان کی روزمرہ زندگی پہلے کے مقابلے میں زیادہ خوشگوار ہو گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق جنوبی کوریا سمیت کئی ممالک میں تیزی سے بڑھتی عمر رسیدہ آبادی اور اکیلے رہنے والے بزرگوں کی تعداد کے پیش نظر مصنوعی ذہانت سے چلنے والے ایسے آلات اور روبوٹس تیار کیے جا رہے ہیں تاکہ انہیں جذباتی، سماجی اور عملی معاونت فراہم کی جا سکے۔
ٹیکنالوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ AI پر مبنی ایسے آلات انسانی رشتوں کا متبادل نہیں بن سکتے، تاہم یہ تنہائی کا شکار بزرگ افراد کی ذہنی صحت بہتر بنانے، روزمرہ معمولات منظم رکھنے اور ہنگامی صورتحال میں مدد فراہم کرنے میں مؤثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔
حالیہ برسوں میں جاپان، جنوبی کوریا، چین اور یورپ کے متعدد ممالک میں بھی بزرگ افراد کی دیکھ بھال کے لیے مصنوعی ذہانت سے لیس روبوٹس اور سمارٹ کمپینین ڈیوائسز کے استعمال میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔