کینیڈا میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کی تجویز
اوٹاوا: کینیڈا کی وفاقی حکومت نے ایک نیا بل متعارف کرایا ہے جس کے تحت 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔ مجوزہ قانون کا مقصد بچوں کو آن لائن نقصانات، سائبر بُلنگ، نفرت انگیز مواد اور ذہنی صحت کو متاثر کرنے والے خطرات سے محفوظ بنانا ہے۔
حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے سیف سوشل میڈیا ایکٹ (Bill C-34) کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بچوں کی حفاظت کے لیے سخت حفاظتی اقدامات اپنانے ہوں گے۔ مجوزہ قانون میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر عمر کی پابندی شامل ہے، تاہم وہ پلیٹ فارمز استثنا حاصل کر سکتے ہیں جو ثابت کریں کہ انہوں نے بچوں کے تحفظ کے لیے مؤثر حفاظتی نظام نافذ کر رکھا ہے۔
کینیڈین حکومت کا کہنا ہے کہ بچوں کو خود کو نقصان پہنچانے پر اکسانے والے مواد، سائبر بُلنگ، نفرت انگیز مواد، تشدد پر اکسانے والی پوسٹس اور غیر رضامندانہ نجی تصاویر جیسے آن لائن خطرات سے بچانے کے لیے نئے قوانین ضروری ہیں۔
اس قانون کے تحت ایک ڈیجیٹل سیفٹی کمیشن بھی قائم کیا جائے گا جو سوشل میڈیا کمپنیوں کی نگرانی کرے گا اور خلاف ورزی کی صورت میں جرمانے عائد کر سکے گا۔ بعض صورتوں میں کمپنیوں کو لاکھوں ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
تاہم اس مجوزہ قانون پر بحث بھی جاری ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ عمر کی تصدیق کے نظام سے صارفین کی پرائیویسی متاثر ہو سکتی ہے جبکہ بعض ماہرین کے مطابق بچے وی پی این اور دیگر طریقوں سے پابندیوں کو باآسانی نظرانداز کر سکتے ہیں۔
یہ بل ابھی پارلیمنٹ میں زیر غور ہے اور قانون بننے سے پہلے اسے مختلف مراحل سے گزرنا ہوگا۔